قومی اسمبلی : اپوزیشن کے احتجاج پر گیس سیس آرڈیننس میں توسیع کی حکومتی قرارداد واپس

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ میں آرڈیننس 2014ءمیں 120 دن کی توسیع کی قرار داد کے خلاف متحد ہو گئیں‘ پی پی پی ‘ ایم کیو ایم ‘ قومی وطن پارٹی کی شدید مخالفت اور محمود خان اچکزئی کی تجویز پر حکومت قرار داد واپس لینے پر مجبور ہو گئی ‘ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ ‘ آفتاب شیرپاﺅ اور سید نوید قمر نے کہا ہے کہ آرڈیننس کے ذریعے گیس ٹیکس نفاذ نہیں کیا جا سکتا ‘ جمعرات کو وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی کی ایوان میں عدم موجودگی پر پارلیمانی سیکرٹری شہزادی عمر زادی ٹوانہ نے ایوان میں قرارداد پیش کی کہ ایوان گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ آرڈیننس 2014ءمیں 120 دنوں کی مزید توسیع دے۔ قرار داد پیش ہوتے ہی ایوان میں موجود پی پی پی کے تمام ارکان بل کی مخالفت میں اپنی نشستوں پر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے سید نوید قمر کو فلور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ایک رکن بل کی مخالفت کرے۔ پھر ایوان کی رائے لیں گے۔ فلور ملنے پر سید نوید قمر نے کہاکہ پی پی پی اس قرار داد کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں آرڈیننس سے کام نہیں چلایا جانا چاہیے۔ توسیع کی بجائے اسے ایوان کی منظوری کیلئے پیش کر دیاجائے۔ ایک طرف ملک میں گیس موجود نہیں اور دوسری طرف اس پر سرچارج لگائے جارہے ہیں۔ یہ تمام اقدامات آئی ایم ایف کے دباﺅ پر کئے جا رہے ہیں۔ اس ٹیکس سے چھوٹے صوبوں کی گیس کی آمدن کم ہوگی۔ اس لئے حکومت یہ قرار داد واپس لے۔ ایم کیو ایم کے ایس اے اقبال قادری نے بھی قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سیس ٹیکس آئین کے خلاف اور پارلیمنٹ کے اختیارات پر قدغن ہے۔ یہ منی بل ہے اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگ سکتا۔ آفتاب شیر پاﺅ نے کہاکہ وہ بھی اس قرار داد کے مخالف ہیں حکومتیں آرڈیننسوں کے ذریعے چلانا گڈ گورننس نہیں کہلا سکتا۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت ضرور اس آرڈیننس پر قانون سازی بھی کرے گی کیونکہ حکومت والے بادشاہ لوگ ہیں۔ اس آرڈیننس کا اطلاق غیر قانونی ہے۔ دو تین دن بعد تھرمل پاور بند کئے جا رہے ہیں جس سے پورا پاکستان اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔ ہم اس کے خلاف واک آﺅٹ کریں گے۔ محمود خان اچکزئی نے تجویز دی کہ ایوان اس قرار داد کے خلاف ہے اس لئے اس قرار داد کو ڈ راپ کر دیا جائے۔ آفتاب شیخ نے کہا کہ قرار داد موخر کر دی جائے جس پر ڈپٹی سپیکر نے قرار داد ڈیفر کر دی۔علاوہ ازیں فاٹا کے ارکان اسمبلی نے مسائل حل نہ ہونے پر ایوان کا علامتی واک آﺅٹ جمعرات کے روز بھی جاری رکھا اور گستاخانہ خاکوں کے خلاف قرارداد مذمت کے حق میں ووٹ ڈالنے کیلئے ایوان میں آئے۔ ایم کیوایم نے بھی کراچی میں اپنے کارکنوںکی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خلاف ایوان سے واک آﺅٹ کیا۔ نکتہ اعتراض پر فاٹا کے ایم این اے حاجی گل شاہ آفریدی نے کہا کہ ایوان سے ان کا واک آﺅٹ جاری ہے کیونکہ ان کے مسائل حل نہیں کئے جارہے۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے ان کے مو¿قف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے مسائل کا ازالہ کرے۔ شیخ آفتاب نے کہا فاٹا کے ایم این ایز کا ہر قسم کے تحفظات کا خیال رکھا جائے گا۔ ایم کیو ایم کے ارکان نے نقطہ اعتراض پر ٹائم نہ ملنے پر احتجاج کیا اور کارکنوں کی ہلاکت پر واک آﺅٹ کرگئے۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات ختم ہوتے ہی ایم کیو ایم کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور ڈپٹی سپیکر سے بولنے کی اجازت مانگی۔ بعدازاں واک آﺅٹ کرگئے۔ جمعرات کے روز قومی اسمبلی کو بتایا گیا جہازوں کی کمی دور ہوتے ہی کراچی اور موہنجوداڑو کے درمیان پروازیں بڑھا دی جائیں گی۔ وزیر مملکت آفتاب احمد شیخ نے کہا کہ کراچی تا مونجوداڑو کو ایک نہیں اب بھی دو پروازیں جا رہی ہیں۔ ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے جمعرات کے روز ایوان میں تحریک انصاف کے ان ارکان کے ناموں کا اعلان کیا جن کی ایوان سے غیر حاضری کو مسلسل 40 روز ہوچکے ہیں۔ جن ارکان کے نام پکارے گئے، ان میںعمران خٹک، علی محمد خان، شہریار آفریدی، خیال زمان اورکزئی، اظہر جدون، داور کنڈی، مراد سعید، قیصر جمال، اسد عمر، غلام سرور خان، نفیسہ عنایت، ساجدہ بیگم اور لعل چند شامل ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری ہاﺅسنگ سید ساجد مہدی نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ وزارت ہاﺅسنگ و تعمیرات نے بے گھر افراد کو مفت پلاٹ دینے کی کسی پالیسی کا اعلان نہیں کیا تاہم بے گھر لوگوں کو کم لاگت کے رہائشی مکانات فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ کم آمدنی والے طبقے کے لئے پانچ لاکھ گھر بنائیں گے اور وزیر اعظم عنقریب اس کی منظوری دیں گے۔ وزارت جہاز رانی و بندرگاہوں کی جانب سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ گوادر بندرگاہ پر نئے پورٹ آپریٹر نے آپریشنل پلان پر کام شروع کردیا ہے‘ تمام امور 2017ءتک مرحلہ وار انجام دیئے جائیں گے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ نظامت اوقاف اسلام آباد کا کنٹرول سنبھالنے کی کوئی تجویز حکومت کے زیرغور نہیں‘ عمرہ ویزا کے حصول کے لئے درپیش مشکلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے وقفہ سوالات کے دوران کہا کہ وزارت خزانہ اوروزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ اٹھانے کے لئے طویل المدتی معاہدے کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک پہنچاتے رہیں گے۔ پٹرول کی قلت ہے‘ ہمارے پاس تیل کے ذخائر زیادہ نہیں ہیں اس کے لئے لیٹر آف کریڈٹ کھول رہے ہیں۔ اگر موجودہ سطح پر قیمتیں برقرار رہتی ہیں تو قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گا۔ تیل کی کمی سے بجلی کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ 6900 میگاواٹ کی پن بجلی کی صلاحیت بندوں کی بندش کی وجہ سے متاثر ہے۔ 4، 5 روز میں پٹرول کی صورتحال بہتر ہوجائے گی۔ وزیر مملکت چودھری عابد شیر علی نے بتایا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کنٹریکٹ رواں ماہ ختم ہوجائے گا، پیپرا بجلی کے بلوں کا تعین کرتا ہے، بھاشا ڈیم پر کام شروع کردیا گیا ہے، حکومت نے اس کیلئے 25 ملین روپے کی رقم مختص کردی ہے۔ بددیانت اور فرائض سے غفلت برتنے والے 62 ملازمین کیخلاف انکوائری ہورہی ہے جن ملازمین کو ان کے عہدوں سے فارغ کیا جاتا ہے وہ عدالت سے سٹے لے کر آجاتے ہیں۔ علاوہ ازیں قائمہ کمیٹی کی 4 رپورٹیں اور این ایف سی عملدرآمد کے بارے میں پہلی ششماہی نگرانی رپورٹ پیش کردی گئی۔
قرارداد واپس