حکومت صرف عدالتوں پر تنقید کیلئے ہے‘ خود فیصلوں پر عمل نہیں کرتی: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

حکومت صرف عدالتوں پر تنقید کیلئے ہے‘ خود فیصلوں پر عمل نہیں کرتی: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی بیورو کریٹس کو گریڈ 20 سے گریڈ 21 میں ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق ترقی دینے   کے معاملے پر عمل درآمد  کر کے  وفاقی حکومت کو 3 دن کی مہلت دیتے ہوئے آئندہ سوموار تک تحریری رپورٹ طلب کر لی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابتدائی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ حکومت صرف بیانات کی حد تک کام کرتی ہے۔ عدالتوں کے احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوتا حکومت کہتی ہے عدالتوں میں کام نہیں ہوتا جبکہ حکومت عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کرتی۔ 3 مارچ 2013ء ڈسٹرکٹ کورٹ اسلام آباد میں دہشت گردی کا تاریخی واقعہ رونما ہوا کئی جانیں ضائع ہوئیں ابھی تک کچھ نہیں ہوا اور نہ ہی حکومت نے وکلاء اور دیگر لوگوں کو امداد تک دی۔ وفاق کے وکیل کو عدالت نے 3 دن کے اندر بیورو کریٹس کو گریڈ 21 میں ترقی دینے کے حکم پر عملدرآمد کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔جمعرات کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں مختلف محکموں کے بیورو کریٹس کے پروموشن کیسز کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس انور خان کاسی پر مشتمل سنگل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی وکیل عاصمہ جہانگیر اور ڈپٹی اٹارنی جنرل اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے عہدیدار عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی بیورو کریٹس کو ترقی دینے کے لئے سنٹرل سلیکشن بورڈ نے وزیراعظم کو سمری بھیجی تھی لیکن وزیراعظم نے پک اینڈ چوائس کے تحت من پسند افسران کو گریڈ 21 میں ترقی دی اور باقی لوگوں کے نام مسترد کر دیئے گئے۔ چیف جسٹس نے کہا حکومت صرف کہتی ہے عدالتو ں میں کام نہیں ہوتا جبکہ عدالتوں کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ حکومت عدالتوں کے فیصلوں کا مذاق اڑاتی ہے۔ وفاق کے وکیل نے عدالت سے وقت لینے کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے کہا کیا عدالت آج ہی فیصلے پر عملدرآمد کروانے کا حکم دے بہتر ہے 3 دن کے اندر عدالتی حکم پر عملدرآمد کروائیں اور سوموار کو رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔ چیف جسٹس نے کہا حکومت کو نظر نہیں آتا ڈسٹرکٹ کورٹس اسلام آباد کی عمارتوں اور دکانوں میں موجود ہیں۔ سانحہ کچہری کے واقعہ کے بعد حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ ہائیکورٹ کی عمارت مکمل نہیں کی گئی۔ حکومت صرف عدالتوں پر تنقید کرنے کے لئے ہی ہے۔ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوا تو عدالت آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کارروائی کرے گی۔ عدالت نے وفاقی بیورو کریٹس جن کی تعداد 50 سے زیادہ ہے کو عدالتی حکم پر گریڈ 21 میں ترقی دینے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت سوموار تک ملتوی کر دی ہے۔