اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل: بیرون ملک سے دہشت گردوں کو ہونیوالی فنڈنگ کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے: سرکاری حکام

اسلام آباد (آئی این پی/صباح نیوز) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزارت قانون اور وزارت خزانہ کے حکام نے کہا ہے کہ اینٹی منی لانڈرنگ (ترمیمی) بل 2014ء کے تحت بیرون ملک سے دہشت گردوں کو ہونے والی فنڈنگ کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے، گزشتہ پانچ سال کے دوران اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت بیرون ملک سے ہونے والی ایک ارب روپے کی ٹرانزیکشن منجمد کی گئیں، موجودہ قوانین میں کمزوریوں کی وجہ سے منی لانڈرنگ کی روک تھام میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔ قائمہ کمیٹی کے ارکان کے اصرار کے باوجود سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے پانچ سال کے دوران منی لانڈرنگ کے 5775 کیسز کی تفصیلات بتانے سے گریزکیا۔ سینئر پارلیمنٹیرینز، وکلائ، چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں اور دیگر سٹاک ہولڈرز سے مذکورہ بل پر مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے خزنہ، ریونیو، اقتصادی امور، شماریات و نجکاری کا اجلاس چیئرپرسن نسرین جلیل کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں اینٹی منی لانڈرنگ (ترمیمی) بل 2014ء کی پہلی خواندگی مکمل کی گئی۔ وزارت خزانہ کے لیگل کنسلٹنٹ منیب ضیاء نے مجوزہ بل کی شق وار ریڈنگ کی،  سینیٹر سیدہ صغریٰ امام ، طلحہ محمود، حاجی عدیل اور عثمان سیف اللہ نے کہا کہ پہلے وزارت خزانہ، سٹیٹ بینک اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ بتائے کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت گزشتہ پانچ سال کے دوران سامنے آنے والے 5775 کیسز کی تحقیقات اور ملزموں کے خلاف کارروائی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کیا مشکلات پیش آئیں۔  کیسز کی تحقیقات کی تفصیل سے آگاہ کیا جائے۔ سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس مذکورہ کیسز کا ڈیٹا موجود نہیں۔ لیگل کنسلٹنٹ منیب ضیاء اور وزارت قانون کے حکام نے بتایا کہ اینٹی منی لانڈرنگ (ترمیمی) بل 2014ء کے تحت بیرون ملک سے دہشت گردوں کو فنڈنگ کے مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیجے جا سکیں گے تاہم ایف آئی آر متعلقہ تھانے میں درج ہو گی وہیں پر تحقیقات ہوں گی۔ سینیٹر حاجی عدیل نے منی لانڈرنگ کے مقدمات میں گریڈ 20 کے افسر کو ملزموں کی گرفتاری کا حکم دینے کا اختیار دینے جرم ثابت ہونے سے پہلے منی لانڈرنگ سے متعلق اثاثوں کی ضبطی پر شدید اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ سے متعلقہ اثاثوں کو جرم عدالت میں ثابت ہونے تک ناقابل فروخت قرار دیا جائے۔ قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن نسرین جلیل نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ ظالمانہ قانون نہ بنے۔ وزارت خزانہ کے لیگل کنسلٹنٹ منیب ضیاء نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کے خلاف تمام تحقیقات خفیہ ہوں گی اور تعاون نہ کرنے والے افراد کو ملزم تصور کیا جائے گا مجوزہ بل کے منظور ہونے کی صورت میں ٹیکس چوری سمیت تمام مالیاتی جرائم اینٹی منی لانڈرنگ (ترمیمی) ایکٹ 2014 کے تحت آ جائیں گے۔ حبیب بینک لمیٹڈ کے صدر نعمان ڈار اور الفلاح بینک کے چیف ایگزیکٹو عاطف باجوہ نے کہا کہ پاکستان میں اینٹی منی لانڈرنگ کے سخت قوانین کی عدم موجودگی کی وجہ سے غیر ملکی بینکوں میں ہمارے کسٹمرز کی ایل سی نہیں کھلتی جبکہ برطانیہ میں کالے دھن کے ذریعے پراپرٹی کی خریداری میں مدد کرنے والے پراپرٹی ڈیلر اور وکیل کو بھی مجرم تصور کیا جاتا ہے۔ اینٹی منی لانڈرنگ کے قوانین پر عملدرآمد کرنے کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمیں کافی تنگ کرتے ہیں، جس سے بینک کے بزنس پر منفی اثر پڑتا ہے، سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ یہ بل اس وقت تک منظور نہیں ہو گا جب تک قائمہ کمیٹی کے تمام ارکان مطمئن نہیں ہوں گے، اس پر قائمہ کمیٹی نے مذکورہ بل پر سینئر پارلیمنٹیرینز، وکلائ، چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں اور دیگر سٹاک ہولڈرز سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ بینکوں نے کالعدم تنظیموں کے ایک ارب روپے سے زائد کے فنڈز منجمد کر دیئے ہیں۔ مختلف بنکوں سے رقم کی ایک ہزار سے زائد مشکوک ٹرانزیکشنز کی چھان بین شروع ہو گئی ہے۔ فوجی افسروں کی منی لانڈرنگ ثابت ہونے پر ان کو فوج کے حوالے کیا جائے گا۔ اور فوجی عدالتوں میں ان کا ٹرائل ہو گا۔ آئندہ مقدمات کی سماعت سیشن کورٹ میں ہو گی۔ اس امر کا اظہار سٹیٹ بینک وزارت خزانہ اور وزارت قانون کے سٹاف کے اعلیٰ حکام نے بریفنگ کے دوران کیا۔ سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے بتایا کہ مروجہ عدالتی نظام اور قوانین کے تحت منی لانڈرنگ کے معاملات کا ٹرائل ہو گا۔ 20 گریڈ سے اوپر کا تفتیشی افسر ہی سرچ وارنٹ جاری اور عدالت کے حکم کے تحت گرفتاری ہو سکے گی۔ ارکان نے واضح کیا کہ شک کی بنیاد پر شہریوں کو ان کی جائیدادوں اور اثاثوں کے فوائد سے محروم رکھنا بنیادی حقوق سے انحراف ہو گا۔ جرم ثابت ہونے پر سخت سے سخت سزا دی جائے۔ کارروائی کے آغاز کے لئے اچھی نیت کا آخر کون تعین کرے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ماضی میں ایک ادارے کے تین اعلیٰ افسران پر کرپشن ثابت ہوئی تھی ان کا ٹرائل ہونے کی بجائے انہیں ترقیاں دے دی گئیں۔ ہم سوچ سمجھ اور حقیقی بجٹ ماہرین کے کردار کی روشنی میں ترامیم کا جائزہ اور ساتھ اپنی تجاویز دیں گے۔