اقتصادی مشاورتی کونسل نے ٹیکس نادہندگان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی تجویز دیدی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیر خزانہ کی صدارت میں اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کے لئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور حکومت کو تجویز کیا ہے ٹیکس نادہندگان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لئے بجلی‘ گیس کے بلز‘ بیرون ملک سفر کے اعدادو شمار کو زیراستعمال لایا جائے۔اجلاس میں ایف بی آر کی طرف سے رعایات پر مبنی ایس آر او واپس لینے اور ریونیو میں اضافہ کے زیرغور اقدامات کے بارے میں بتایا گیا۔ایف بی آر نے بتایا توقع ہے 2471 بلین ریونیو جمع ہوگا۔اجلاس میں ملک کے اندر تیل اور گیس کے ذخائر کے بارے میں بھی پری زنٹیشن دی گئی۔اس حوالے سے شرکاء نے تفصیلی بحث کے بعد تیل و گیس کی تلاش کے لئے اقدامات تجویز کئے۔اجلاس کے شرکاء نے وزیر خزانہ کے کفایت شعاری کے بارے میں پالیسی بیان کی تعریف کی۔حکومت کی طرف سے اخراجات میں 30فیصد کمی سے خسارہ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔شرکاء نے تجویز کیا ڈیٹ مینجمنٹ آفس کی تنظیم نو کی جائے۔ اجلاس میں ڈیٹ کی حدود کے ایکٹ 2005ء پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ بعض ارکان نے اس بات پر تشویش ظاہر کی۔اس قانون پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا مشاورتی کونسل کو متحرک کیا گیا ہے جس سے باہمی تبادلہ خیالات میں مدد ملی ہے۔ہم اجتماعی دانش سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔وزیر خزانہ نے شرکاء کو ملک کے معاشی انڈی کیٹرز کے بارے میں بتایا اور کہا گروتھ بڑھ رہی ہے اور افراط زر کم ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا اس ماہ ترسیلات 10فیصد‘ ایف بی آر ریونیو کی گروتھ 21فیصد بڑھی ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2014ء میں 16بلین ڈالر تک لے جائے جائیں گے۔دریں اثناء وزیر خزانہ سے یورپین انویسٹ منٹ بینک کی نائب صدر میگ ڈیلینا کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک کے اندر قانونی تحفظ حاصل ہے۔انہوں نے خیال خور پراجیکٹ کے لئے بینک کی مدد کو سراہا۔انہوں نے کہا حکومت آئندہ 4سال میں بجلی کی پیداوار 14ہزار میگاواٹ سے بڑھا کر 22ہزار میگاواٹ کرنا چاہتی ہے جبکہ درمیانی مدت میں 40ہزار میگاواٹ تک کی صلاحیت حاصل کی جائے گی۔ پاکستان میں انرجی میکس کا طریقہ کار غلط تھا جس کی وجہ سے بجلی کی لاگت بہت بڑھی ہے۔بینک کے وفد کے سربراہ نے کہا ان کا ادارہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ہوا سے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں پر غور کیا جارہا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا دریائے سندھ سے 90ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے وفد کو دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کی تجویز کے بارے میں بتایا۔اے این این کے مطابق اقتصادی مشاورتی کونسل نے بیرونی قرضوں کے حجم میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حدود قرضہ ایکٹ 2005ء پر عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا حکومت بجٹ میں اعلان کردہ تیس فیصد کٹوتیوں کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کرے۔