طالبان کی اعلیٰ قیادت مذاکرات چاہتی ہے: برطانوی ہائی کمشنر

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامس نے کہا ہے کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت مذاکرات چاہتی ہے۔ پاکستان سے متعلق امریکی نہیں بلکہ اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں نہ برطانیہ امریکہ کی 51 ویں ریاست بننا چاہتا ہے نہ پاکستان تاہم امریکہ اور برطانیہ کا مقصد علاقے میں استحکام کا قیام ہے۔ 1989ءکی طرح افغانستان کو نہیں چھوڑا ہے۔ عالمی برادری 2014ءمیں افغانستان کو نہیں چھوڑ رہی بلکہ محدود تعداد میں فوجی موجود رہیں گے۔ امریکہ اور ہماری فوج تربیت کے لئے افغانستان میں رہے گی۔ نجی ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں نے دورہ کابل میں محسوس کیا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ سیاسی تعلقات بڑھانا چاہتا ہے تاکہ پاکستان افغان سرحد کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ضروری ہے کہ افغان حکومت اور گروہوں کو منصوبے پر اعتماد ہو ورنہ منصوبہ پائیدار نہیں ہو گا۔ عالمی فوج افغانستان میں ہے۔ طالبان قیدی امریکی اور برطانوی قید میں ہیں۔ اقتصادی حکومت اور پارلیمنٹ کہے گی تو 2014ءمیں عسکری لحاظ سے افغانستان میں نہیں ہوں گے جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا طالبان کی اعلیٰ قیادت افغانستان کے ساتھ امریکہ سے بھی مذاکرات چاہتی ہے۔ تمام گروہوں کو شامل کرنا ہو گا۔ ملا عمر کو افغانستان کے سربراہ کوتسلیم کرنے کے سوال پر کہا کہ ابھی ہم نے دیکھنا ہے کہ طالبان مذاکرات میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔ مذاکرات کے لئے مطالبات کی فہرست سامنے نہیں آئی۔