سرگودھا میں ڈویژنل پبلک سکول کے اساتذہ کی تنخواہیں بڑھانے کے بعد دو ہفتوں میں بقایاجات ادا کرنے کی ہدایت

سرگودھا میں ڈویژنل پبلک سکول کے اساتذہ کی تنخواہیں بڑھانے کے بعد دو ہفتوں میں بقایاجات ادا کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) عدالت عظمیٰ نے سرگودھا میں ڈویژنل پبلک سکول کے اساتذہ کی تنخواہیں بڑھانے کے بعد دو ہفتوں میں بقایاجات ادا کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ پنجاب کے شعبہ تعلیم میں اداروں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے جس کی ذمہ داری اعلیٰ حکام پر عائد ہوتی ہے لیکن آئین کسی بھی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا۔ جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو اس موقع پر چیف سیکرٹری پنجاب ناصر سعید کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ سرگودھا ڈویژنل سکول کے اساتذہ کی تنخواہوں میں یکم اگست سے سو فیصد اضافہ کر دیا ہے اس کے ساتھ ساتھ سکول کے انتظامی معاملات کی بہتری کے لئے حکمت عملی تیار کی گئی ہے جس پر جلد عملدرآمد کا آغاز کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری کے جواب پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ صوبائی حکومت دانش سکولوں پر کثیر سرمایہ خرچ کر رہی ہے مگر پہلے سے قائم ڈویژنل سکولوں اور ان کے اساتذہ کی طرف توجہ نہ دینا ناانصافی ہے، آئین کسی بھی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پینسٹھ سالہ تاریخ میں لوگوں کی توقعات تھیں کہ ادارے فعال ہوں اگر ایسی صورتحال ہے تو ہم صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو بلا لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کا استحصال ہو رہا ہے تو ہم تحفظ کے لئے موجود ہیں۔ دانش سکول کھولے جا سکتے ہیں تو پہلے سے موجود سکولوں پر بھی توجہ دی جائے۔ وزیر اعلیٰ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ ایک سکول میں تنخواہ کتنی اور دوسرے میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، حکومت اس شعبے کو بہتر بنائے۔ حکومت آج ہے کل نہیں ہو گی، آج اچھا کام کریں گے تو لوگ یاد کریں گے۔ اساتذہ کا استحصال ہوا تو عدالت ان کے تحفظ کی خاطر موجود ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اب عزائم، حوصلوں اور نیتوں نے کروٹ لی ہے تو معاملات ٹھیک ہو جائیں گے، وزیر اعلیٰ پنجاب صوبے کے تمام اساتذہ کے ساتھ امیتازی سلوک کے خاتمے اور استحصال نہ ہونے کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے سماعت کے بعد قرار دیا کہ ڈویژنل سکول اگر غیر ضروری ہیں تو پھر صوبائی حکومت انہیں اتنی اہمیت کیوں دے رہی ہے۔ یہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ذمہ داری ہے کہ و ہ کسی سکول کے ساتھ بھی امتیازی سلوک نہ ہونے دیں۔ بعدازاں عدالت نے اساتذہ کو دو ہفتوں میں ماضی کے بقایاجات کی ادائیگی کا فیصلہ کرنے اس کی کاپی چیف منسٹر کو بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔