سرحد کے آرپار عسکریت پسندی کا مسئلہ مل کر حل کرینگے : پاکستان‘ امریکہ میں اتفاق

سرحد کے آرپار عسکریت پسندی کا مسئلہ مل کر حل کرینگے : پاکستان‘ امریکہ میں اتفاق

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ + خبرنگار خصوصی + ایجنسیاں) امریکی نمائندہ خصوصی جیمز ڈوبنز کے دورہ پاکستان کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ جیمز ڈوبنز نے وزیرداخلہ نثارعلی خان ،مشیرخارجہ سرتاج عزیز اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے کامیاب ملاقاتیں کیں۔ امریکی سفارت خانہ سے جاری بیان میں کہا گیا ملاقاتوں میں پاکستان امریکہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور افغانستان میں امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دفتر خارجہ سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورت حال پر غور کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں وزیراعظم کے دورہ امریکہ کی تیاری پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ملاقات میں 2014کے انخلاءپر بات چیت کی گئی۔ آن لائن کے مطابق امرےکی خصوصی نمائندہ برائے افغانستان وپاکستان جےمز اےفر ڈوبنز سے ملاقات کے موقع پر وفاقی وزےرداخلہ چوہدری نثار نے موجودہ پاکستان امرےکہ تعلقات پر اطمےنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا پاکستان امرےکہ کے ساتھ اپنے تعلقات شفافےت، باہمی دلچسپی اور افہام وتفہےم کی بنےاد پر مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے، ملاقات مےں وزےراعظم نواز شرےف کے رواں ماہ دورہ امرےکہ کی تےارےوں کا بھی جائزہ لےا گےا، علاوہ ازیں افغان مفاہمتی امن عمل اور افغانستان مےں2014ءکے بعد کی صورتحال پر بھی بات چےت کی گئی، ملاقات مےں سرحد کے آر پار عسکرےت پسندی پر بھی تبادلہ خےال ہوا اور اس بات پر اتفاق کےا گےا اس مسئلے کو مل جل کر حل کےا جائے گا، ملک مےں امن کی صورتحال بہتر بنانے کےلئے حکومت کے امن اقدامات پر تازہ ترےن پےشرفت پر بھی تبادلہ خےال کےا، ملاقات مےں انسداد دہشتگردی کے تناظر مےں اہم مذاکرات سے متعلق امور پر بھی بات چےت کی،چوہدری نثار نے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کےلئے دونوں ممالک کے درمےان ادارہ جاتی تعاون کی اہمےت کو بھی اجاگر کےا، اس موقع پر امرےکہ کے خصوصی اےلچی نے کہا پاکستان سےکورٹی سے متعلق مسائل پر دونوں ممالک کے درمےان ادارہ جاتی تعاون سے فائدہ اٹھا سکتا ہے،انہوں نے خطے مےں پائےدار امن قائم کرنے کےلئے حکومت کی مخلصانہ کوششوں کی تعرےف کرنے، دونوں ممالک کے مابےن قرےبی تعاون کی ضرورت پر زور دےا،دونوں رہنما¶ں کے مابےن ملاقات کے موقع پر امرےکی سفےر رچرڈ اولسن بھی موجود تھے۔ پاکستان اور افغانستان کے بارے میں امریکہ کے خصوصی نمائندے جیمز ڈوبنزنے بری فوج کے سربراہ سے بھی ملاقات کی اور افغانستان اور خطے میں امن و استحکام کے قیام میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔سرکا ری میڈ یا رپورٹ کے مطابق انہوں نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ آئی این پی کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے بھی جیمز ڈوبنز نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نواز شریف کے رواں ماہ میں ہونے والے دورہ امریکہ، افغانستان اور خطے کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے بھی شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے بیک ڈور چینلز سے امریکہ پر واضح کر دیا ہے پاکستان اور امریکہ کے مستقبل میں تعلقات کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے دوہرے معیار کو ختم کرے اور خطہ میں پاکستان کو اپنے سب سے بڑے اتحادی ہونے کی حیثیت سے وہ تمام فوائد پہنچائے جو وہ اس وقت اتحادی نہ ہونے کے باوجود بھارت کو پہنچا رہا ہے۔ وزیراعظم اس حوالے سے کھل کر امریکی قیادت سے بات کرینگے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں افغان مفاہمتی عمل کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ملا برادر، ملا منصور داد اللہ سمیت پاکستان سے رہا کئے گئے افغان طالبان رہنماﺅں کے افغان امن عمل میں کردار کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ اے این این کے مطابق پاکستان اور امریکہ نے وزیراعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ کے ایجنڈے کو حتمی شکل دیدی۔ وزیراعظم کی صدر اوباما سے ملاقات میں ڈرون حملوں کی بندش اور پاکستان کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی فراہمی کا معاملہ سرفہرست ہو گا۔ نواز شریف دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے اور پاکستانی مصنوعات کی امریکی منڈیوں میں رسائی کا معاملہ بھی اٹھائیں گے‘ افغانستان سے امریکی فوج کے ا نخلائ۔ پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہو گا۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ بھی زیرغور آئے گا۔ نجی ٹی وی کے مطابق دو روز قبل کابل میں افغان صدر حامد کرزئی کیساتھ سکیورٹی معاہدے کے حوالے سے ہونے والے بے نتیجہ ملاقات نے امریکہ کو افغانستان اور پاکستان سے تعلقات اور روابط کے حوالے سے اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائز لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
پاکستان / امریکہ