دورے کی برکت سے افغانستان امریکہ معاہدہ موخر ہوا‘ کرزئی نے تمام پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا: فضل الرحمن

دورے کی برکت سے افغانستان امریکہ معاہدہ موخر ہوا‘ کرزئی نے تمام پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا: فضل الرحمن

اسلام آباد (ایجنسیاں) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ افغان جہاد میں ہم نے کئی قربانیاں دیں لیکن اس کے باوجود ہم وہاں اپنے لئے جگہ نہیں بنا سکے۔ پاکستانی سفارتکار 8 برس میں وہ کا میابیاں حاصل نہیں کر سکے جو ہم نے 3 روزہ دورہ کابل کے دوران حاصل کیں، افغان صدر نے تمام پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا ہے، حکومت کا کام ہے مفاہمت سے فائدہ اٹھائے، حامد کرزئی امریکی انخلا کے بعد طالبان سے شراکت داری چاہتے ہیں انہوں نے داخلی مفاہمت کے لئے تعاون طلب کیا ہے ان پر واضح کر دیا کہ اس معاملہ پر وہ حکومت پاکستان سے بات کریں، طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں بھارتی لابی مضبوطی کا معاملہ بھی افغان صدر کے سامنے اٹھایا، ہمارے دورے کی برکت سے افغانستان امریکہ سکیورٹی معاہدہ موخر ہوا اور معاملہ لویہ جرگہ کے حوالے کر دیا گیا۔ طالبان ہم سے ناراض نہیں ان کے لئے پوری دنیا کو ناراض کیا آج بھی ہمارے دل طالبان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہمارے قیام کے دوران جان کیری کا افغانستان آنا اتفاقیہ تھا۔ وزیراعظم کو دورہ افغانستان پر تفصیلی بریفنگ دوں گا۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں فضل الرحمن نے کہا کہ ان کی افغانستان کے دورے میں صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے دوران خطے اور بالخصوص افغانستان کے داخلی معاملات پر بات ہوئی جبکہ طالبان سے مذاکرات کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ طالبان سے مذاکرات میں بنیادی کردار پاکستان کا ہو گا اور ان کی جماعت امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کی بھرپور حمایت کرتی ہے کیونکہ افغانستان میں اتفاق رائے مذاکرات کے نتیجے میں ہی ہو گا۔ فضل الرحمن نے کہا پاکستان کے افغانستان کی موجودہ حکومت کے حوالے سے بھی تحفظات ہیں، 2001ءکے بعد ہم یہ بات کہتے رہے ہیں کہ افغانستان طالبان حکومت کے دور میں پاکستان کا حامی تھا لیکن طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں بھارتی لابی سرگرم ہو گئی تاہم وہ اس سے متعلق تمام تفصیلات حکومت کے سامنے رکھیں گے۔ افغانستان میں جہاد کے باوجود ہم وہاں جگہ نہیں بنا سکے، گدشتہ 8 سالوں میں پاکستان کی سفارتکاری جو حاصل نہ کرسکی وہ ہم نے کابل میں 3 دن رہ کر حاصل کرلیا تاہم آگے حکومت کی مرضی ہے کہ وہ اس سے فائدہ حاصل کرتی ہے کہ نہیں اور وہ اس سلسلے میں وزیراعظم نوازشریف اور ان کی ٹیم سے بھی بات کریں گے اور تمام صورتحال سے آگاہ کریں گے تاکہ ہم خطے میں قیام امن کے لئے ایک بڑا کردار ادا کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی صدر کرزئی سے ملاقات میں افغان صدر نے اپنے ملک میں قید تمام پاکستانی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا اگر فہرست موجود ہوتی تو انہیں تھما دیتے، اب حکومت کو اس سلسلے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ یہ بھی ملک کا مسئلہ ہے اور وہاں جو قیدی ہیں وہ بھی پاکستانی بچے ہیں، انہوں نے کہا کہ افغانستان پر امریکی فوج کشی کے پہلے بھی مخالف تھے اور اب بھی چاہتے ہیں کہ غیر ملکی افواج خطہ کو چھوڑ دیں۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر کے سنگین غلطی کی تھی کیونکہ طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ جنگ مزید مسائل پیدا کر دیتی ہے۔ دورہ¿ افغانستان سے قبل نوازشریف کو اعتماد میں لیا تھا جنہوں نے میرے دورہ¿ افغانستان کی بھرپور حمایت کی تھی جبکہ دورے سے قبل سیکرٹری خارجہ نے افغانستان بارے خارجہ پالیسی کے اہم امور سے بھی آگاہ کیا تھا اور بریفنگ دی تھی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا طالبان نے جے یو آئی (ف) کے دورہ¿ افغانستان کو مسترد نہیں کیا ہے البتہ وہ زخمی ہیں اور زخمیوں کو کچھ تکالیف ضرور ہوتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طالبان اس دورے کی اہمیت جان جائینگے کیونکہ ہم نے طالبان کی خاطر پوری دنیا کو ناراض کیا ہے ہم طالبان کی خیرخواہی چاہتے ہیں ہمارے دل طالبان کے ساتھ دھڑکتے ہیں البتہ طالبان سے براہ راست رابطہ نہ ہونے کے باعث کچھ ابہام پیدا ہو جاتا ہے جسے براہ راست رابطوں سے ختم کیا جا سکتا ہے۔