حاجی عدیل سے ناروا سلوک، سینٹ قائمہ کمیٹی نے انکوائری رپورٹ مسترد کر دی

حاجی عدیل سے ناروا سلوک، سینٹ قائمہ کمیٹی نے انکوائری رپورٹ مسترد کر دی

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاق کے اجلاس میں پیش کی گئی انکوائری رپورٹ میں موجود بیانات اور تحریری تفصیلات میں تضاد بیانی کے حوالے سے رپورٹ کو جعل سازی اور جھوٹ پر مبنی قرار دے کر مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔ سینیٹر حاجی عدیل کے ساتھ چیف ایگزیکٹو کنٹونمنٹ بورڈ اور پشاور پولیس کے ناروا روئیے کے حوالے سے تحریک استحقاق پر کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اختیار، وقار، عزت اور توقیر پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔ عدالتی حکم عدولی اور قانون کی دھجیاں بکھیرنا کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ ایوان بالا کے معزز رکن کے ساتھ سرکاری اہلکاران کا ناروا رویہ قومی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ حاجی عدیل نے کہاکہ عدالتی حکم امتناعی کے باوجود چھٹی کے دن میرے 50سالہ ملکیتی پلازہ کو گرا دیا گیا اور بدتمیزی کی گئی۔ سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم کرکے ہی ریاست کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہاکہ حاجی عدیل نے گمنام شہداءکی یادگار قائم کرنے کی باقاعدہ اجازت لی جو بعد میں واپس لے گئی۔ حاجی عدیل کو ان کی سوچ اور فکر کی سزا دی جا رہی ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے عملہ نے معزز رکن کے ساتھ بدتمیزی کرکے افواج پاکستان جیسے اہم قومی ادارے کی توقیر میں کمی کی ہے۔ سینیٹر عباس آفریدی نے کہا کہ آئین بنانے والوں کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سینیٹر اسلام الدین شیخ نے تجویز کیا کہ قانون پر عمل نہ کرنیوالے سرکاری ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ سینیٹر ساجد میر نے کہاکہ معززین پارلیمنٹ کی عزت نہیں کی جا رہی تو عوام کا کیا حال ہو گا۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سعید غنی کی طرف سے ایم ڈی پاکستان سکیورٹی پیپر کارپوریشن کے خلاف تحریک استحقاق کا معاملہ اگلے اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی کے اس سے قبل منعقد ہونیوالے اجلاسوں کی تجاویز، سفارشات احکامات پر عملدرآمد کی مکمل رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ پشاور واقعے کی انکوائری میجر جنرل کے عہدے کے افسر سے کرائی جائے۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری دفاع کو بھی طلب کر لیا۔
رپورٹ مسترد