بجلی چوری میں کراچی پہلے، لاہور دوسرے نمبر پر ہے، مہنگی ہونے سے چوری بڑھے گی: حاجی عدیل

اسلام آباد (اے پی اے) اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا ہے کہ بجلی چوری میں پہلے نمبر پر کراچی ہے اور دوسرے نمبر پر لاہور ہے، عابد شیر ہے یا شیر عابد ہے جو آج کل بلی بنا ہوا ہے کیونکہ وہ کبھی میاﺅں میاﺅں بھی کرتا ہے۔ عابد شیر علی اپنے بیان پر خیبر پی کے کے عوام سے معافی مانگیں، ہم گالی برداشت نہیں کرینگے، شیر گیدڑ بنے ہوئے ہیں، بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مسترد کرتے ہیں، بجلی اتنی زیادہ مہنگی کر دی گئی ہے کہ اس کی چوری میں اضافہ ہو جائے گا، بجلی کی قیمت کی مد میں خیبر پی کے کے پیسے نہ دیئے گئے تو صوبائی حکومت اور اپوزیشن کو کہا جائے گا کہ وہ بجلی کی قیمت نہ دیں، پنجاب سولر کے منصوبے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ یہ بات انہوں نے سینیٹر زاہد خان کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہی۔ حاجی عدیل نے کہا کہ حکومت کے پہلے سو دن میں جو مہنگائی ہوئی ہے اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اس حوالے سے تحریک التوا بھی جمع کروائی ہے، اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مہنگائی پر عوام سڑکوں پر نکل آئینگے۔ سپریم کورٹ نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر ٹیکنیکل مداخلت کی مگر حکومت نے نیپرا کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جو پچھلی تاریخوں سے ہوا یہ اضافہ بہت زیادہ ہے کون بجلی کا بل ادا کر سکے گا، واپڈا پہلے خود بجلی چوری کرتا تھا اتنی مہنگی بجلی ہونے کے بعد باقی لوگ بھی چوری کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں جنگ ہے اس کے باوجود ہم اپنی ضرورت کی بجلی پیدا کرتے ہیں۔ 1990-91ءمیں میاں نوازشریف کے دور میں ہمارے بجلی کی قیمت چھ ارب روپے مقرر کی گئی جو آج بھی اتنی ہی ہے ہم نے اٹھارہویں ترمیم میں فیصلہ کیا کہ جس صوبے سے معدنیات نکلے گی آدھی قیمت اسے ملے گی۔ آدھی بجلی استعمال کر لی جائے مگر آدھی تو ہمیں دی جائے۔ پنجاب کی مرضی کے بغیر خیبر پی کے میں گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آسکتا خیبر پی کے میں وافر بجلی پیدا کی جا رہی ہے جس سے کارخانے بھی چل سکتے ہیں گیس بھی ضرورت سے زیادہ ہے مگر ہماری گیس ملتان اور لاہور کو ملتی ہے ہمیں گیس اٹک سے لینا پڑتی ہے۔ ہم نے ایسے منصوبے بنائے تھے کہ اگر پانچ سال مزید ہماری حکومت رہتی تو خیبر پی کے تیل میں بھی خود کفیل ہو جاتا۔ پنجاب نہ گندم دیتا ہے اور نہ گندم امپورٹ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ حکومت نے آئی پی پیز کو 480 ارب روپے دے دیئے ہیں مگر واپڈا کو 90 ارب روپے نہیں دیئے جا رہے ہیں۔