کشمیری مہاجرین کو دی گئی سہولیات کی نگرانی کیلئے آئی ایس آئی کو 70لاکھ روپے دئیے گئے

 اسلام آباد (نوائے وقت نیوز) وزارت امور کشمیر کے حکام نے پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کو بتایا ہے کہ کشمیری مہاجرین کو دی گئی سہولیات کی نگرانی کیلئے آئی ایس آئی کو 70 لاکھ روپے ادا کئے گئے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے ریمارکس دیئے کہ انسانی حقوق کے محکموں کاکام آئی ایس آئی سے لئے جانے کا جواز سمجھ نہیں آتا۔ اسلام آباد میں یاسمین رحمن کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سیکرٹری امور کشمیر کامران قریشی کاکہناتھاکہ مہاجرین کی سہولیات کی نگرانی اس لئے آئی ایس آئی کو دی گئی کہ خراب سہولیات کے باعث مہاجرین واپس نہ چلے جائیں۔پی اے سی نے گرانٹس کے اخراجات کی آڈٹ سے تصدیق کرانے کی ہدایت کی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ اعدادو شمار ڈویژن نے افغان مہاجرین کی مردم شماری اور رجسٹریشن کے لئے مختص فنڈز سے 8.3 ملین روپے کی لاگت سے گاڑیاں خرید لیں۔ اس پر پراجیکٹ ڈائریکٹر شمس الاسلام کو نوکری سے برخواست کرکے معاملہ نیب کوبھجوا دیا گیا۔ سیکرٹری نے بریفنگ میں بتایا کہ 2005 میں افغان مہاجرین کی مردم شماری کے مطابق ملک میں 30 لاکھ مہاجرین رجسٹرڈ ہیں۔ 2005ءکے بعد افغان مہاجرین کی مردم شماری نہیں ہوئی۔ مردم شماری کیلئے کوئی قانونی پابندی نہیں۔10 سال بعد مردم شماری ہونی چاہئے۔ حکومت آج حکم دے تو دو سے تین ماہ میں مردم شماری کرا دیںگے۔مردم شماری پر 7ارب خرچ ہوں گے۔