انتخابی تیاریوں پر زور کوئی ابہام کارگر نہ ہو سکا

نواز رضا
موجودہ قومی اسمبلی کا آخری پارلےمانی سال چار ماہ بعد اختتام پذےر ہو رہا ہے18مارچ 2013ءکو قومی اسمبلی تحلےل ہو جائے گی 45روز بعد عام انتخابات کرا دئےے جائےں گے۔ گوےا عام انتخابات مئی 2013ءکے اوائل یا وسط مےں ہوں گے ۔ قبل ازےں حکومتی اتحاد بجلی لوڈ شےڈنگ کی وجہ سے عام انتخابات کا نام سے ہی لرزہ براندام تھا اور حکومتی اتحاد کے رہنماﺅں مےں عام انتخابات موسم سرما کے اختتام ےا بہار کے اوائل مےں کرانے کے بارے مےں سوچ پائی جاتی تھی۔ اب وفاقی وزےر اطلاعات و نشرےات قمر زمان کائرہ کے اعلان کے بعد عام انتخابات کے انعقاد کی تارےخ کے بارے مےں کی جانے والی قےاس آرائےاں دم توڑ گئی ہےں ۔ صورت حال مزید واضح ہو گئی ہے کہ وفاقی حکومت عام انتخابات اپنی آئےنی مدت سے اےک روز بھی قبل کرانے کا اراردہ نہیں رکھتی۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس دوران عام انتخابات کے حوالے سے دانستہ ابہام کی کےفےت پےدا کرنے کی کوشش بھی گئی تاکہ اپوزےشن جماعتےں عام انتخابات کی بھر پور اندز مےں تےاری نہ کر سکےں لےکن کنفےوژن کے اس ماحول مےں جہاں اپوزےشن کی سب سے بڑی جماعت نے حکومت کو اپنی آئےنی مدت پوری کرنے کا بھرپور موقع فراہم کےا ہے وہاں اس پر جلد عام انتخابات کے انعقاد کے لئے اپنا دباﺅ بھی برقرار رکھا ہے تاکہ حکومت ملک مےں امن وامان کی خراب صورت حال کی آڑ لے کر موجودہ اسمبلےوں کی زندگی مےں اےک سال کی توسےع نہ کردے ۔ اسی وجہ سے پاکستان مسلم لےگ (ن) پچھلے تےن چار ماہ سے عام انتخابات کی تےارےوں مےں مصروف ہے۔ پارٹی کی اعلی قےادت نے سوائے آٹھ دس ان مسلم لےگی رہنماﺅں کے جنہوں نے جنرل پروےز مشرف کی حکومت مےں رہ کر پاکستان مسلم لےگ (ن)کو سب سے زےادہ نقصان پہنچاےا ”غےر اعلانےہ معافی“ کے بعد ان سب مسلم لےگےوں کے لئے اپنے دروازے کھول دئےے ہےں، جو ابتلاءکے وقت ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔ مسلم لےگ (ق) کو چھوڑنے والے رائے ونڈ سے آئندہ انتخابات مےں پارٹی ٹکٹ کی کمٹمنٹ حاصل کررہے ہےں۔ پاکستان مسلم لےگ (ن) کی اعلی قےاد ت نے پارٹی کے لئے مناسب امےدواروں کی تلاش کے لئے ضلعی سطح پر جائزہ کمےٹےاں قائم کر دی ہےں جنہےں 15نومبر2012ء تک اپنی رپورٹےں پےش کرنے کی ہداےت کی گئی ہے۔ قبل ازےں قائم کردہ کمےٹےوں کو ان حلقوں کا جائزہ لےنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جن مےں مسلم لےگ (ن)کے امےدوار شکست کھا گئے ےا وہاں ان کے پاس کوئی امےدوار نہےں تھے لےکن اب قائم کی گئی نئی جائزہ کمےٹےوں کو ان حلقوں کا بھی جائزہ لےنے کی ذمہ داری دے دی گئی ہے جہاں سے مسلم لےگی ارکان منتخب ہوئے ۔ پاکستان مسلم لےگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسےن نے معاملہ کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اپنی” مرغےوں“ کو ” ٹوکری “کے نےچے رکھنے کی حکمت عملی کے تحت پارٹی ٹکٹ دےنے کے اعلانات کرنا شروع کر دئےے ہےں ۔ اس کی اےک وجہ تو ان کو پاکستان مسلم لےگ (ن) کی طرف جانے سے روکناہے جبکہ دوسری وجہ ےہ ہے کہ پاکستان مسلم لےگ(ق) اپنے ارکان کو پےپلز پارٹی پنجاب کے صدر مےاں منظور وٹو کے ساےہ سے دور رکھنا چاہتی ہے۔  اسی لئے مسلم لےگ (ق) کے سرکردہ رہنماﺅں چوہدری شجاعت حسےن اور چوہدری پروےز الہی نے مےاں منظور وٹو کے ساتھ باہم شےرو شکر ہونے کی بجائے ان کے اور اپنے درمےان اےک فاصلہ قائم کر رکھا ہے۔ اسی وجہ سے قومی وصوبائی اسمبلےوں کے ضمنی انتخابات کے موقع پر پےپلز پارٹی اور مسلم لےگ (ق) کے درمےان ہونے والے مذاکرات مےں چوہدری برادران نے مےاں منظور وٹو اور قمرزمان کائرہ کے ساتھ خود بےٹھنے کے بجائے ان سے مذاکرات کے لئے کامل علی آغا اور محمد بشارت راجہ کو بھجوا دےا تھا۔ اس لئے ےہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مےاں منطور وٹو کی موجودگی مےں پےپلز پارٹی اور مسلم لےگ(ق) کے درمےان ہنی مون زےادہ دےر تک نہےں چلے گا اگر دونوں جماعتوں کے درمےان اتحاد قائم رہا تو تو اس کا کرےڈٹ مسلم لےگ (ن) کو جائے گا کیونکہ اس کا تنہا دونوں جماعتےں مقابلہ کرنے کی سکت نہےں رکھتےں، اس لئے وہ متحد ہو کر اس کا مقابلہ کر ےں گی ۔ حکومتی اتحاد مےں شامل دےگر جماعتوں کے درمےان انتخابی اتحاد کے بارے مےں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے عوامی نےشنل پارٹی اےک رہنماءکی طرف سے ےہ بات برملا کہی گئی ہے کہ اے اےن پی ، پےپلز پارٹی سے انتخابی اتحاد نہےں کرے گی لےکن اگلے روز ہی حاجی عدےل نے اس بات کی وضاحت کر دی کہ پےپلز پارٹی سے انتخابی اتحاد کرنے ےا نہ کرنے کا فےصلہ پارٹی قےادت کرے گی ۔ مسلم لےگ (ن) اےک طرف پارٹی کے لئے مناسب امےدواروں کے بارے مےں اپنا ہوم ورک مکمل کرنے مےں مصروف ہے تو دوسری طرف  اس کا پارٹی منشور بھی تےاری کے مراحل میں ہے ۔ اس سلسلے مےں مسلسل اجلاس منعقد ہو رہے ہےں، مسلم لےگی قےادت کے بارے مےں عام تاثر ےہ ہے کہ وہ پنجاب جہاں مسلم لےگ (ن)کا گرا ف دےگر جماعتوں کے مقابلے مےں بلند ہے وہ ” سولو فلائٹ“ کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاہم وہ مسلم لےگ (ہمخےال ) کو شےر کے انتخابی نشان پر انتخاب لڑنے کی صورت مےں 11 فےصد نشستےں دےنے پر آمادہ ہوئی ہے ۔ اسی طرح وہ اہل سنت والجماعت کو بھی اس شرط پر ان حلقوں مےں پارٹی ٹکٹ دےنے کے لئے تےار ہے جہاں ان کا اثرورسوخ زےادہ ہے مسلم لےگ (ن) اور جماعت اسلامی کی قےادت کے درمےان انتخابی اتحاد کے سلسلے مےں ابتدائی نوعےت کی بات چےت ہوئی تھی لےکن بوجوہ بات چےت آگے نہےں بڑھ سکی جماعت اسلامی کی قےادت کاکہنا ہے کہ اےسا دکھائی دےتا ہے مسلم لےگ (ن) جماعت اسلامی سے انتخابی اتحاد مےں دلچسپی نہےں رکھتی۔ ےہی وجہ جماعت اسلامی نے بھی اپنے آپشن اوپن رکھے ہوئے ہےں جماعت اسلامی ، تحرےک انصاف سے بھی مذاکرات کررہی ہے۔ جماعت اسلامی مےں اےک بہت بڑی تعداد مسلم لےگ (ن) سے انتخابی اتحاد چاہتی ہے ۔ ان کی اولےں ترجےح مسلم لےگ(ن) ہی ہے لےکن مسلم لےگ سے بات نہ بنی تو لا محالہ جماعت اسلامی کو تحرےک انصاف کے آزاد خےال لیڈر سے قدم ملا کر چلنا ہو گا پاکستان مسلم لےگ (ن) نے سندھ اور بلوچستان مےں قوم پرست جما عتوں کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنے کا فےصلہ کر لےا ہے پاکستان مسلم لےگ (ن) نے سندھ مےں پےر صاحب پگارا صبغت اللہ کی چھتری تلے” اےنٹی پےپلز پارٹی اتحاد “ قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی طرح مسلم لےگی قےادت بلوچستان نےشنل پارٹی کے صدر سردار اختر مےنگل کو عام انتخابات مےں حصہ لےنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے صدر طلال بگٹی، نےشنل پارٹی کے رہنماءمےر حاصل بزنجو اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی بھی مسلم لےگ (ن) کے ساتھ مل کر انتخاب لڑےں گے ۔سر دست مسلم لےگی قےادت خےبر پختونخوا مےں کسی سےاسی جماعت کے ساتھ سےٹ ا ےڈجسٹمنٹ ےا انتخابی اتحاد کا کوئی فےصلہ نہےں کر سکی انتخابات کا طبل بجتے ہی صورت حال واضح ہو جائے گی کہ سےاست کا اونٹ کس کروٹ بےٹھے گا۔