ممتاز قادری کی سزا، حکومت کی دہشت گردی ایکٹ ختم کرنے کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے منظور

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت ) سپریم کورٹ  نے اسلام آباد  ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل مجرم  ملک ممتاز قادری کی جانب سے دائر اپیل باقاعدہ  سماعت کے لئے منظور کرلی ہے۔ مزید سماعت اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔ ممتاز قادری کے وکیل نے  مؤقف اختیار کیا کہ ممتاز قادری کی سابق گورنر سلمان تاثیر سے ذاتی دشمنی نہ تھی بلکہ  اس نے توہین رسالت کے باعث  ان کو قتل کیا ہے لہذا استدعا ہے کہ ہماری اپیل کو سماعت کیلئے منظور اور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کیا جائے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ممتاز قادری سلمان تاثیر کی حفاظت پر مامور تھا‘ عدالت کو  آئین و قانون کے مطابق  فیصلہ کرنا ہے، سوال یہ ہے کہ  اگر کوئی فرد ریاست کے قانون کی مخالفت یا خلاف ورزی  کرتا ہے تو کیا ہم اسے توہین رسالت کہہ سکتے ہیں؟ اگر محافظ سے کوئی محفوظ نہیں تو یہ بہت خطرناک روش ہوگی ریاست کے قانون  کو برا کہنا اور توہین رسالت میں فرق ہے شرعی معاملہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نہیں سن سکتی اسے صرف شرعی عدالت سن سکتی ہے۔ وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کی سلمان تاثیر سے ذاتی دشمنی یا عناد نہ تھا اس نے توہین رسالت کے تناظر میں غصہ سے یہ اقدام کیا۔ اس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اس نے پھر  28گولیاں کیوں ماریں؟معاملہ توہین رسالت کا ہے اس لیے عام قانون کے تحت سزا نہیں دی جاسکتی مگر یہ کیسے پتہ چلے گا سلمان تاثیر کی سوچ غلط تھی؟ دو سوالات ہیں: یہ فوجداری معاملہ ہے یا شرعی ؟حالت جنگ اور امن میں فرق ہے اگر کسی گائوں کی سکول کی بچی کو قتل کردیا جائے تو باقی بچیاں خوف و ہراس کا شکار ہوجاتی ہیں ،منصوبہ بندی کے تحت اگر معاشرے میں دہشت پھیلانے کے لئے کارروائیاں کی جائیں تو یہ دہشت گردی کے زمرے میں آئے گا۔یہ جرم انفرادی ہے آرٹیکل 9کے تحت کسی کی آزای نہیں چھینی جاسکتی جبکہ ٹرائل میں آئین کے آرٹیکل 10کے تقاضے پورے ہونے چائیں ،، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی جج آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہ خیانت کامرتکب  ہو گا، سلمان تاثیر نے کیاسوچ کروہ بیان دیاتھا  یہ کون جانتا ہے،وفاق کے وکیل نے کہا کہ ایک انسانی جان کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا دہشت گردی کی دفعات 7 ATAشامل کی جائے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔