سینٹ : حکومت طرز حکمرانی بدلے، اپوزیشن: ججوں ، افسروں کو اضافی پلاٹ پر آج جواب دیا جائے: چیئرمین

سینٹ : حکومت طرز حکمرانی بدلے، اپوزیشن: ججوں ، افسروں کو اضافی پلاٹ پر آج جواب دیا جائے: چیئرمین

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نیوز ایجنسیاں) چیئرمین سینٹ نے ایوان قائد ایوان سینیٹر راجا ظفرالحق کو ہدایت کی وہ ججز اور گریڈ 22 کے افسروں کو ایک ایک اضافی پلاٹ دینے کے بارے میں حکومت کے نوٹیفکیشن کے بارے میں حکومت کا مؤقف لے کر ایوان میں پیش کریں۔ ایم کیو ایم کی سینیٹر نسرین جلیل نے اس معاملہ کو ایوان میں نکتہ اعتراض پر اٹھایا۔ انہوں نے کہا یہ فیصلہ درست نہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر حمزہ نے کہا جس دن اخبار میں آیا بیماری کو دوگنا کر دیا ہے۔ یہ غلط روایت قائم کر رہے ہیں۔ اس کو ختم ہونا چاہئے۔ اس پر عملدرآمد نہیں ہونا چاہئے۔ چیئرمین نے ہدایت کی قائد ایوان آج بروز جمعہ اس بارے میں جواب دیں۔ آن لائن/ اے پی پی کے مطابق سینٹ میں اپوزیشن ارکان نے نواز شریف کی حکومت کی ناقص کارکردگی اور طرز حکمرانی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور موقف اختیار کیا عوام کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے حکومت اپنا رویہ بدلے۔ وزراء کرپشن کا راستہ چھوڑ کر عوامی خدمت کریں۔ نوازشریف نے ججوں کو خریدنے کے لئے دو پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے مسلم لیگ (ن) کے ایم حمزہ نے بھی اس پر اعتراض کیا اور پلاٹ الاٹ کرنے کی پالیسی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ نسرین جلیل نے نکتہ اعتراض پر کہا نواز شریف غریبوں کی بجائے ججوں وزراء کو اربوں روپے کے 2 پلاٹ الاٹ کر رہے ہیں۔ سینیٹر خالدہ پروین نے کہا واپڈا حکام رشوت کے بغیر ٹرانسفارمر بھی نہیں لگاتے۔ سعید غنی نے مشترکہ کونسل کی رپورٹ ایوان میں پیش کی اور دکھ کا اظہار کیا حکومت آئینی اداروں کو عزت نہیں دے رہی۔ نواز شریف حکومت طرز حکمرانی تبدیل کرے۔ حکومت نظریہ کونسل کی سفارشات کو بھی اہمیت دے اور قانون سازی کرے۔ سینیٹر سسی پلیجو نے وزیر آئی ٹی انوشہ رحمان کی جوڈیشل اجلاس میں مسلسل شرکت کو تنقید ہدف کا نشانہ بنایا اور کہا عوامی ٹیکسز پر نواز شریف کی حمایت غیر قانونی ہے۔ جوڈیشل کمشن اجلاس کے بعد انوشہ کی میڈیا میں غلط آبزرویشن جوڈیشل کمشن کی کارکردگی پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے حکومت کے رویہ پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا این ایف سی کی رپورٹ چار سال سے سینٹ میں جمع ہی نہیں کرائی گئی۔ سینیٹر محسن لغاری نے کہا وزراء اور حکمران بیرونی ممالک سے ملنے والے تحفے توشہ خانہ میں جمع کرانے کی بجائے اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں۔ بلٹ پروف گاڑیاں حکمران ناقص امن و امان کی صورت حال کے باعث استعمال کرتے ہیں یہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئی تو تباہی آ جائے گی۔ سینیٹر نسرین جلیل نے کہا ایم کیو ایم کے ارکان کے ماورائے عدالت قتل پر ورثاء کو معاوضہ بھی نہیں دیا گیا یہ ظلم ہے۔ سینیٹرز نے مطالبہ کیا نوازشریف حکومت اپنا وطیرہ بدلے عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرے اور عوام کو ریلیف دے۔ علاوہ ازیں سی ایس ایس کی عمر میں اضافے سے متعلق معاملے پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا حکومت کو سی ایس ایس کیلئے عمر کی بالائی حد 28 سے 30 سال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، عدالتوں نے کہا عمر کی حد بڑھائی جا سکتی ہے۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا وفاقی صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے جعلی ڈومیسائل بنوانے کے اقدامات کو روکے اور دو ماہ کے اندر ایوان میں رپورٹ پیش کی جائے۔ قبل ازیں سینیٹر سحر کامران نے کہا بلوچستان، سندھ، خیبر پی کے اور دیگر پسماندہ علاقوں کے طلباء کو تعلیم کے زیادہ مواقع میسر نہیں آتے اس لئے سی ایس ایس کے امتحان میں ان صوبوں اور علاقوں کے امیدواروں کی عمر کی بالائی حد میں اضافہ کرنا چاہئے۔ سینیٹر گیان چند نے کہا پسماندہ علاقوں کے طلباء کے لئے سی ایس ایس کے امتحان میں شرکت کے لئے عمر کی بالائی حد 28 سال سے بڑھا کر 32 سال کی جائے۔ مظفر حسین شاہ نے کہا ایکٹ میں ترمیم کرنا پڑے گی۔ سینیٹر محسن لغاری نے کہا عمر کی حد بڑھانے سے فرق نہیں پڑے گا، کوٹہ سسٹم کا غلط استعمال روکا جائے۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کیپیٹل ایڈمنسٹریشن و ڈویلپمنٹ ڈویژن (کیڈ) کے سوالات کے جواب کے حوالے سے کسی وزیر کو ذمہ داری تفویض نہ کرنے اور سینٹ سیکرٹریٹ کو متعلقہ وزیر کی اجلاس میں عدم حاضری سے متعلق مطلع نہ کرنے پر ’’کیڈ‘‘ کے وفاقی سیکرٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، باز محمد خان، الیاس احمد بلور اور دائود خان اچکزئی کی پمز کے دو ڈاکٹروں کے متعلقہ صوبے کے کوٹے پر عدم انضمام سے متعلق تحریک التواء پر ریمارکس دیتے ہوئے چیئرمین سینٹ نے کہا قواعد و ضوابط کے تحت کسی انفرادی نوعیت کے معاملے پر تحریک التواء پیش نہیں کی جا سکتی، توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ انجینئر بلیغ الرحمن نے کہا حکومت نے توانائی کی بچت کے لئے دکانیں رات 8 بجے، شادی ہال 10 بجے اور ریسٹورنٹ 11 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ پٹرول پمپس کے سٹورز اور ادویات کی دکانیں بند کرنے کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ سینٹ میں کراچی میں بس پر دہشت گردوں کے حملے سے متعلق تحریک التوا نمٹا دی گئی۔ ایوان بالا کے ایجنڈے پر سینیٹر سراج الحق کی اس معاملے پر تحریک التواء بھی ایجنڈے کا حصہ تھی تاہم ان کی عدم موجودگی کے باعث نمٹا دی گئی۔