حکومت کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر سنجیدگی سے غور کرے، سابق چیئرمین واپڈا

اسلام آباد (ثناءنیوز) سابق چیئرمین واپڈا انجنیئر شمس الملک نے کہا ہے کہ عوام کو سستی اور مستقل بنیادوں پر بجلی کی فراہمی کے لیے حکومت کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے یہ کہنا غلط ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے نوشہرہ ڈوب جائے گا۔ وہ تو پہلے بھی دو مرتبہ ڈوب چکا ہے۔ ایسی باتیں کرنے والے کم علم ہیں مہنگی بجلی کی وجہ سے چوری بڑھتی ہے ، موجودہ حکومت کے ارادوں سے لگتا ہے کہ اب بجلی کا بحران ختم ہو کر رہے گا اگر موجودہ حکومت نے بھی عوام کو صرف وعدوں پر ہی رکھا تو آئندہ الیکشن میں اس کا حشر بھی سابقہ حکومت جیسا ہو گا۔ توقع ہے حکومت سستی توانائی میں اضافے کے اہداف حاصل کر لے گی جمعہ کو ایک انٹر ویو میں انھوں نے کہا بلز کی ادئیگی عام صارفین کی بساط سے باہر ہوتی جارہی ہے لہٰذا سستی بجلی میں اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بجلی کی پیداواری صلاحیت بہت کم ہے بہت سے پروجیکٹس بند پڑے ہیں اگر انہیں متحرک کیا جائے اور نئے پروجیکٹس لگائے جائیں تو ملک میں بجلی کی طلب کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ کالا باغ ڈیم چھ سات سال کے عرصے میں بن سکتا ہے انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم سے نوشہرہ کے ڈوبنے کی بات کرنے والے اپنی کم عملی کا اظہار کرتے ہیں انہیں علم ہونا چاہیے کہ نوشہرہ 1929ء دوسرا 2010ءکو تاریخ میں 2 مرتبہ ڈوب چکا ہے۔