بدعنوانی کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے‘ ماضی کے قصے ختم‘ ہر معاملے میں شفافیت لانا ہو گی: جسٹس افتخار

بدعنوانی کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے‘ ماضی کے قصے ختم‘ ہر معاملے میں شفافیت لانا ہو گی: جسٹس افتخار

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے ایل این جی کوٹہ کیس وزارت پٹرولیم کے اس بیان کے بعد نمٹا دیا کہ اس نے معاملہ ای سی سی میں لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کے ساتھ ہی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دےا کہ وزارت پٹرولیم میں اگر کوٹہ نئے سرے سے دینے کا فیصلہ ہو تو یہ قواعد کے مطابق اور مکمل طور پر شفاف ہونا چاہئے اور اس میں موجودہ تینوںکمپنیوں کے خدشات کا خیال رکھا جانا چاہئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی تو وزارت پٹرولیم کے وکیل سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ انہیں وزارت کی جانب سے ہدایت ملی ہے کہ عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ وزارت نے کوٹہ دینے کے سارے عمل پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس سے قبل کے کوٹہ میں شفافیت نہیں تھی، اب یہ معاملہ قومی اقتصادی کونسل (ای سی سی) میں پیش کیا جا رہا ہے جو فیصلہ کرے گی، امکان ہے کہ کوٹہ نئے سرے سے دیا جائے گا۔ کوٹہ کی بڈنگ میں حصہ لینے والی تین کمپنیوں کے وکلا سے عدالت نے پوچھا کہ کیا ان کو اس معاملے پر کوئی اعتراض ہے تو تینوں کے وکلا نے کہا کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں تاہم ایک کمپنی پی جی پی ایل کے وکیل شاہد حامد نے کہاکہ عدالت اس بات کو یقینی بنائے کہ نیا عمل مکمل طور پر شفاف ہو گا، ان تینوں کمپنیوں کو بڈنگ کے عمل میں شریک ہونے کی اجازت دی جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بڈنگ کے عمل میں شرکت کی اجازت دینا عدالت کا کام نہیں۔ انہوں نے سلمان اکرم راجہ سے کہا شفافیت کے حوالے سے شاہد حامد کے خدشات سنجیدہ ہیں جو کچھ بھی کیا جائے وہ شفاف ہونا چاہئے۔ جس پرسلمان اکرم راجہ نے کہاکہ یہ خدشات قبل از وقت ہیں کیونکہ ابھی ری بڈ کا فیصلہ نہیں ہوا ابھی معاملہ ای سی سی کو بھجوایا جا رہا ہے تاہم اس کے باوجود وزیر پٹرولیم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اب تمام عمل شفاف ہو گا اور کوئی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔ شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ کل ہمیں وزیر پٹرولیم نے بلوایا تھا جنہوں نے ہمارے ساتھ اس معاملے پر بات کی تو میری کمپنی نے تجویز دی کہ وزارت نیا مکمل طور پر غیر جانبدار کنسلٹنٹ مقرر کر سکتی ہے۔ عدالت نے وزارت پٹرولیم کے وکیل سے کہا کہ وہ اپنا بیان تحریری طور پر عدالت میں جمع کرائیں ان کی جانب سے حکم کی تعمیل پر عدالت نے مقدمہ نمٹا دیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ وہ دن چلے گئے جب معاملات غیر شفاف ہوتے تھے اب تو ہر معاملے میں شفافیت ہی شفافیت لانا ہو گی کسی کو بدعنوانی کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے‘ ماضی کے قصے اب ختم ہو چکے اب اس ملک کو آئین و قانون کے مطابق ہی چلانا ہے۔ سپریم کورٹ نے ایل این جی کوٹہ کیس نمٹاتے ہوئے وزارت پٹرولیم کو ہدایت کی کہ کوٹہ کی فروخت آئین و قانون کے مطابق کی جائے، معاملات میں ہر طرح سے شفافیت کو برقرار رکھا جائے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ ایل این جی کوٹہ کیس میں اٹارنی جنرل منیر اے ملک پیش ہوئے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تمام معاملات ای سی سی کی منظوری سے شفاف طریقے سے سرانجام دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے ہی ای ٹینڈرنگ کا فیصلہ کرنا ہے۔ ہم اس کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔ جو میں کہہ رہا ہوں یہ وزارت پٹرولیم کا م¶قف ہے۔ شاہ خاور نے کہا کہ ای سی سی کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ میں کنسورشیم کی جانب سے پیش ہو رہا ہوں۔ تین بڈرز کی طرف سے شاہ خاور اور مخدوم علی خان پیش ہو رہے ہیں اس میں بڑی رقم ملوث ہے۔ 2.8 بلین ڈالر کمائے جا رہے ہیں۔ میں نے تو بہت رقم خرچ نہیں کی اگر یہ معاملہ ختم کرتے ہیں تو پھر انٹرنیشنل ماہر کو بلانا پڑے گا کیونکہ کمپنیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن جائے گا۔ بولی کے حوالے سے بھی تحفظات پیدا ہو جاتے ہیں کچھ نہ کچھ یقین دہانی کرانا ہو گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بادی النظر میں یہ سب شفاف طریقے سے نہیں ہوا۔ ہم اس کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر تمام پراسس دوبارہ سے شروع ہو گا تو معاملہ متنازعہ ہو سکتا ہے ایسا نہیں ہو گا سب کچھ شفاف طریقے سے ہی ہو گا۔ سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ اگر کچھ کیا گیا تو اس کی شفافیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔ شاہ خاور نے کہا کہ ہمارے کچھ تحفظات تھے مگر وزارت کے نمائندوں کی وضاحت پر ہمارے تحفظات ختم ہو چکے ہیں۔ شاہ خاور نے کہا کہ وزارت نے سب کو باری باری بلایا تھا اور بات کی تھی۔ ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ ابھی نرخ 18 روپے سے بڑھ کر 19 ہو جائے گا اور 160 ملین ڈالر زائد دینا پڑ جائے گا تاہم قومی دلچسپی کے امور میں ان کیساتھ ہی ہم شفافیت چاہتے ہیں۔ 2 ملین ڈالر بولی پر دوبارہ خرچ بھی کر ڈالیں اور نتیجہ بھی نہ نکلے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب کا کم سے کم نقصان ہو۔ بعدازاں عدالت نے فیصلہ لکھواتے ہوئے کہا کہ عوام کو بہت نقصان پہنچایا گیا تھا۔ فوجی فرٹیلائزر اور وی آئی پی وٹالز کی کم ترین بولی قبول نہیں کی گئی تھی۔ فریقین کے وکلا کا کہنا ہے کہ ہمیں شفافیت کے تحت وزارت پٹرولیم کے تمام اقدامات منظور ہیں۔ اس کیس کو ان وجوہات اور شرائط کے تحت نمٹا رہے ہیں کہ شفاف طریقے سے تمام معاملات نمٹائے جائیں گے۔ مقامی انگریزی اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی تھی اور ایل این جی کوٹہ کو بغیر کسی شفافیت کے جلد بازی میں فروخت کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے اس کا جائزہ لیا ہے اور ایل این جی کوٹہ کی الاٹمنٹ کے دوران وقار اے ملک نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کی وجہ سے استعفیٰ دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ قومی خزانے کے تحفظ کیلئے ازخود نوٹس لیا گیا اور تمام متعلقہ لوگوں کو بلایا گیا اور تمام فریقین کو سنا گیا تھا۔ 18 مارچ 2014ئ‘ 4 اپریل‘ 7 مئی 2013ءاور 22 مئی 2013ءکو بھی سماعت کی گئی۔ وزارت پٹرولیم نے بیان دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اربوں ڈالرز کا معاملہ ہے بیان تو تحریری دینا ہو گا۔ شاہ خاور نے کہا کہ آزادانہ ماہر مقرر کیا جائے جو اس سارے معاملے کا دوبارہ جائزہ لے اور شفافیت کیساتھ فیصلہ دے۔ پیپرا رولز کے تحت ہی نیلامی کرنا مقصود ہو تو کی جائے۔ سلمان اکرم نے کہا کہ ابھی یہ تحفظات بہت ابتدائی ہیں پتہ نہیں وزارت پٹرولیم اس کنٹریکٹ کے حوالے سے کیا فیصلہ کرتی ہے ممکن ہے کہ وہ نیا پراجیکٹ شروع کرے۔