کرپشن‘نیب کا رینٹل پاور کیس میں پرویزاشرف و دیگر کیخلاف نئی تحقیقات کا فیصلہ

کرپشن‘نیب کا رینٹل پاور کیس میں پرویزاشرف و دیگر کیخلاف نئی تحقیقات کا فیصلہ

اسلام آباد (آئی این پی) قومی احتساب بیورو (نیب ) کے ایگزیکٹیو بورڈ نے گلف رینٹل پاور ،گوجرانوالہ کو غیر قانونی کنٹریکٹ ایوارڈ کے حوالے سے سابق وزیراعظم وسابق وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف، سابق سیکرٹری پانی و بجلی شاہد رفیع، سابق ایم ڈی، پی پی آئی بی فیاض الٰہی، سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پی پی آئی بی (موجود ایم ایس پی پی آئی بی) این اے زبیری، سابق ایم ڈی پیپکو فضل احمد خان، اور سابق سی ای او جینکو غلام مصطفی تونیو کے خلاف کرپشن اور بدعنوانیوں کے تحت نئی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے ملزمان نے ایم یم 62 میگاواٹ رینٹل پاور پراجیکٹ (رینٹل پاور) کے کنٹریکٹ ایوارڈ میں اختیارات کا غلط استعمال کیا تھا اور گلف رینٹل پاو ر ایمن آباد ، گوجرانوالہ سے قومی خزانے کو 493.85 ملین روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔شہریوں سے 707.51ملین روپے لوٹنے کے الزام میں ایم ،ایس نیٹور لیز اینڈ ری فنانس لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ندیم حمید شیخ اور ایم ،ایس اورین انٹرنیشنل (پرائیویٹ) لمیٹڈ (این ،آئی ،پی ،ایل ) کے سی ای او اور چیئرمین راشد ندیم شیخ کے خلاف کرپشن ریفرنسز دائر کرنے کا فیصلہ کیا چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ نیب پورے ملک سے کرپشن اور کرپٹ طرز عمل کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے ،وہ منگل کو نیب کے ایگزیکٹو بورڑ کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ ترجمان نیب کے مطابق دوسری تفتیش پشاور یونیورسٹی کے افسران و دیگر حکام کیخلاف تھی جنہوں نے کیمیکل سائنسز انسٹیٹیوٹ، یونیورسٹی آف پشاور کے فنڈز میں کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال کے ذریعے 12کروڑ رپے غبن کیے تھے۔ ملزمان امداد اللہ ،عارف اسماعیل ،میاں عبدالصمد اور محمد علی نے کیمیکل سائنسز کے انسٹیٹیوٹ ( آئی، سی، ایس ) کے مختلف بینک اکاؤنٹس سے 12 کروڑ غبن کئے تھے۔