ڈیڈلائن گزر جانے کے باوجود سینکڑوں غیر رجسٹرڈ سمز بند نہ ہوسکیں، کسٹمرز کو کمپنیوں کے فون

اسلام آباد +کراچی (نوائے وقت نیوز + آن لائن) بائیومیٹرک تصدیق کی ڈیڈلائن گزر جانے کے باوجود موبائل کمپنیوں نے سینکڑوں غیر رجسٹرڈ سموں کو بند نہیں کیا۔ آن لائن نے گزشتہ روز درجن کے قریب ایسے موبائل نمبرز کو چیک کیا جو کہ ان کی ابھی تک انگوٹھوں کے نشان سے تصدیق ہونا باقی تھی مگر وہ چل رہے ہیں اور موبائل کمپنیاں خود غیر رجسٹرڈ سموں پر فون کر کے صارفین کو آگاہی مہم کے ذریعے اطلاع دے رہی ہیں کہ وہ اپنی سموں کو فی الفور رجسٹرڈ کرائیں۔ دریں اثناء چیئرمین پی ٹی اے اسماعیل شاہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کتنی سمز بند ہوئیں کتنی نہیں، حتمی طور پر نہیں بتا سکتے۔ موبائل فون کمپنیاں تصدیق شدہ سمز کا ڈیٹا اکٹھا کررہی ہیں جو آڈٹ رپورٹ کے بعد جاری کیا جائے گا۔موبائل فون سموں کی بائیومیٹرک تصدیق کی مہم پاکستان میں کام کرنے والی ٹیلی کام آپریٹرز کے ریونیو اور منافع میں کمی کا سبب بنے گی تاہم قومی سلامتی کے لیے موبائل کمپنیوں کی جانب سے اس مہم کے دوران اپنی سماجی ذمے داری کی ادائیگی کے جذبے کو ٹیلی کام ریگولیٹرز سمیت متعلقہ وزارتوں نے قابل تحسین قرار دیا ہے۔ٹیلی کام انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق جنوری سے شروع اس مہم کے دوران اپریل تک ریٹیل چینلز سے نئی سموں کی فروخت بند رہنے سے آپریٹرز کو ریونیو کی مد میں تقریباً 80 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، مالی سال 2013-14 کے دوران نئی سموں کی اوسط ماہانہ فروخت 10لاکھ سم رہی، اس لحاظ سے 4 ماہ کے دوران آپریٹرز کو سموں کی فروخت میں 40لاکھ کمی کا سامنا کرنا پڑا، مالی سال 2013-14 میں موبائل فون کمپنیوں کے اوسط ماہانہ ریونیو 200روپے فی صارف کے لحاظ سے کمپنیوں کو صرف ریونیو کی مد میں 80کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، موبائل فون آپریٹرز نے بائیومیٹرک تصدیق کے لیے ملک بھر میں 80 ہزار سے زائد ڈیوائسز نصب کیں جن کی اوسط قیمت 350سے 400ڈالر بتائی جاتی ہے، انڈسٹری ذرائع کے مطابق صرف ڈیوائسز کی تنصیب پر کمپنیوں نے 6 کروڑ ڈالر خرچ کیے جو اس دوران ہونے والے ریونیو کے نقصانات کے علاوہ ہیں۔