پاکستان میں مفلس، عورت اور غریب کی بیٹی ہونا جرم بن گیا:جسٹس جواد

پاکستان میں مفلس، عورت اور غریب کی بیٹی ہونا جرم بن گیا:جسٹس جواد

اسلام آباد (صباح نیوز) سپریم کورٹ میں پنجاب پولیس کے خلاف شکایات سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے قائمقام چیف جسٹس جسٹس جواد نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے، غریب ہونا پہلا جرم عورت ہونا دوسرا اور غریب کی بیٹی ہونا تیسرا جرم بن چکا ہے۔ پولیس کا مسئلہ بن گیا ہے کہ قانون کی پاسداری نہیں کر تی اگر پولیس نے قواعد و ضوابط کی پیروی نہیں کرنی تو سپریم کورٹ کے باہر شاہراہ دستور پر رکھ کر پولیس رولز کو آگ لگا دیں۔ ان غریبوں کا ازالہ کس نے کرنا ہے جو پولیس کے ہاتھ چڑھ گئے۔ تین رکنی بنچ نے منڈی بہائوالدین میں مریم نامی خاتون کے ساتھ پولیس اہلکار اعجاز اور اس کے دوست رانا آصف کی جانب سے کی گئی زیادتی کے حوالے سے مقدمہ کی سماعت کی تو ڈی پی او بشارت محمود نے تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ اس موقع پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تعزیرات پنجاب میں ترمیم کر کے شامل کر دیا گیا ہے کہ غریب ہونا صوبے میں جرم نمبر 1، عورت ہونا جرم نمبر 2 اور غریب کی بیٹی ہونا جرم نمبر 3 قرار دے دیا گیا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے چالیس سال کی پریکٹس کے دوران میں نے ایک مقدمہ ایسا نہیں دیکھا جس میں کوئی پولیس کی طرف سے درست تحقیقات مکمل کی گئی ہوں۔ عدالت میں موجود پولیس افسرکسی ایک کیس کی مثال دکھا دیں جس میں انصاف کے تقاضے پورے کئے گئے ہوں۔ افسر مست بیٹھے رہتے ہیں۔ اس کیس کی وجہ سے لوگوں کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عدالت کو بتایا کہ اس مقدمہ میں پولیس کی بد نیتی نظر آ رہی ہے تاہم پولیس کے متعلقہ اے ایس آئی اعجاز کے خلاف انضباطی کارروائی شروع کی گئی ہے جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ اس مقدمہ کی حیثیت سامنے آ چکی ہے کیا صوبے میں پولیس بالکل ناقابل اعتماد بن چکی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے سامنے تو یہ ایک مقدمہ ہے علم نہیں اور کتنے واقعات ہوتے ہیں۔ ڈی پی او منڈی بہائو الدین بشارت محمود نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اس مقدمہ میں اﷲ کو حاضر ناظر جان کر رپورٹ تیار کی ہے اگر مقدمہ کی باریکیوں میں گئے تو خاتون مزید متاثر ہوںگی۔ ڈی پی او کی اس بات پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا کہ آپ خاتون پر الزام لگانا چاہتے ہیں تو لگائیں لیکن عدالت کو بتائیں کہ جو کچھ آپ بتا رہے ہیں وہ پولیس روزنامچہ میں کہاں درج ہے تو ڈی پی او نے کہا کہ یہ معمول کی پریکٹس ہے کہ یہ باتیں روزنامچے میں درج نہیں کی جائیں۔ جسٹس جواد خواجہ نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ قانون قانون ہے اس پر عملدرآمد کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے پولیس رولز کے مطابق آپ نے تحقیقات کے بارے میں ہر چیز روزنامچے میں لکھنا ہوتی ہے یہ کیا بات ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ پولیس پریکٹس پر چلتی ہے پولیس میں یہ رسم بن چکی ہے کہ کوئی سر اٹھا کر نہ چلے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ڈی پی او منڈی بہاؤالدین کی جانب سے واقعہ کے بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی ہے، اس کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ سماعت پر پنجاب کے لاء افسر عدالت کی معاونت کریں۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اس مقدمہ میں پولیس رولز کی خلاف ورزی کی گئی ہے بعدازاں عدالت نے مقدمہ کی سماعت یکم مئی تک ملتوی کر دی گئی۔