لیبر قوانین پر عمل نہ ہونا بے حسی کی انتہا ہے ، صورتحال جاری رہی تو وزرائے اعلیٰ کو طلب کرینگے: سپریم کورٹ

 لیبر قوانین پر عمل نہ ہونا بے حسی کی انتہا ہے ، صورتحال جاری رہی تو وزرائے اعلیٰ کو طلب کرینگے: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں ملک بھر میں آلودگی کا باعث بننے والی سٹون کریشنگ مشینوں اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں اور ورکرز کی ہلاکتوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مسترد کردیا۔عدالت نے دوبارہ چاروںصوبوں سے وکرز کے تحفط،بیماریوں کی روک تھام ،اور مناسب مانیٹرنگ سسٹم بارے عملی اقدامات پر مبنی جامع رپورٹس طلب کرلی ہیں جبکہ کیس کی مزید سماعت کل جمعرات تک ملتوی کردی گئی ہے۔دوران سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ اگرآئین پر عمل درآمد اختیارات سے تجاوز ہے تویہ تجاوز ضرور کیا جائے گا آئین پاکستان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا چاہئے پوری دنیا ہی اسے اختیارات سے تجاوز قرار دے ،ہربات غیر یقینی ہے،نہیں معلوم کے لیبر قوانین پر کب عملدرآمد ہوگا؟ کب بلدیاتی انتخابات ہوں گے ، ہوں گے بھی یا نہیں ؟سٹون کریشنگ مالکان کا مقصدصرف پیسہ کمانا رہ گیا ہے باقی ساری دنیاچاہے بھاڑ میں جائے،کیا صحت ،تعلیم اور دیگر محکموں کو عدالت نے چلانا ہے؟ جسٹس جواد نے کہا کہ سٹون مشینوں پر کام کرنے والے ایک ہی خاندان کے تین افراد ناقص حفاظتی انتظامات کے باعث فوت ہوگئے اور کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی،بلدیاتی نظام میں تو معاملات کا علاقہ ناظم ذمہ دار ہوتا ہے۔صوبوں کا موقف ہے کہ پتھروں کی کٹائی کے دوران پھیلنے واالی دھول مٹی سے کوئی گردوں کی کوئی بیماری نہیں پھیلتی جبکہ پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی رپورٹ اس کے برعکس ہے۔جن حکام کی جانب سے جھوٹی رپورٹس جمع کروائی گئی ہیں عدالت ان کے خلاف سخت ایکشن لے گی ۔دوران سماعت سندھ کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں کل 114 کرشنگ مشینیں ہیں جن میں سے 60 کو بند کردیا گیا ہے کیونکہ وہ لیبر قوانین پر عملدرآمد نہیں کر رہی تھیں۔صوبائی حکومتوں کی جانب سے عدالت کو واضح جواب نہیں دیا جاتا تاہم عدالت مزید وقت نہیں دے گی کیونکہ جولائی 2014ء سے مقدمہ کی سماعت جاری ہے،صوبوں کی جانب سے درست تعداد نہیں بتائی جارہی کہ اب تک کتنے لوگ ہلاک ہوئے ۔کے پی کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کرشنگ مشینوں پر لیبر اور گرد سے بچنے بارے حفاظتی اقدامات بارے کوئی لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کیا جواب ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک صوبہ کے پی کے میں ایسا کوئی نظام موجود ہی نہیں،جبکہ آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت عملدرآمد حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے جائے ڈی آئی کے میں بھی 50 سے زائد لوگ فوت ہوئے مگر صوبائی حکومتوں کو کچھ نظر نہیں آتا۔ دوران سماعت جسٹس عظمت سعیدنے کہا کہ صحت ، تعلیم، تحفظ لیبر قوانین چاروں صوبوں میں موجود ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہو رہا۔آرٹیکل 9 کے تحت زندگی کا تحفظ غریب مزدوروں کا حق ہے کہ نہیں ؟بہت سے ایسے گائوں بھی ہیں جہاں 20 سے 40 سال کی عمر کا کوئی بندہ زندہ نہیںوجہ علاقے میں کرشنگ مشینوں کا ہونا اور ان سے بھیلنے والی گردے کی بیماریوں سے لوگوں کی ہلاکتیں ہیں۔
لیبر قوانین