فاٹا کے 8 سینیٹرز نے آزاد گروپ بنا لیا، جوڈیشل کمشن آرڈیننس سمیت 6 بل پیش

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+نوائے وقت نیوز+ایجنسیاں) چیئرمین رضا ربانی کی زیر صدارت سینٹ کا اجلاس ہوا۔ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض پیرزادہ نے مشترکہ مفادات کونسل کی سالانہ رپورٹ 2012-13ء سینٹ میں پیش کی۔ قومی اسمبلی سے منظور شدہ 6 بلز بھی سینٹ میں پیش کئے گئے۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا ملک میں پارلیمنٹ موجود ہے، حکومت آرڈیننس سے گریز کرے۔ تمام آرڈیننس قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دئیے گئے ہیں۔ عام انتخابات انکوائری کمشن آرڈیننس ‘ حفاظتی تدابیر ترمیمی آرڈیننس، ڈپنگ ڈیونیز آرڈیننس، قومی تعریف کمشن آرڈیننس بھی سینٹ میں پیش کئے گئے۔ آئی این پی کے مطابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے ارکان کے ایوان کے اندر موبائل فونز اور ٹیبلٹس لانے پر پابندی عائد کر دی۔ جبکہ چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ کسی صوبائی حکومت کی کارکردگی کو ایوان بالا میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا، ارکان کسی ایک ایشو پر بات کر سکتے ہیں لیکن کسی صوبائی حکومت کی مکمل کارکردگی کو موضوع نہیں بنا سکتے۔ چیئرمین سینٹ نے منگل کو یہ ریمارکس ارکان سینٹ کی جانب سے بار بار امن و امان کے حوالے سے بلوچستان کی حکومت کی ناکامی کو زیر بحث لانے پر دیئے ۔ انہوں نے کہا قانون اور رولز اس کی اجازت نہیں دیتے تاہم صوبوں میں پیش آنے والے واقعات اور ایشوز پر بحث کی جا سکتی ہے۔ مزید برآں چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے ایوان کو آگاہ کیا ایوان کی ایک دن کی کارروائی کے ایجنڈے میں دو توجہ دلائو نوٹس زیر غور لانے کیلئے قواعد میں ترمیم تیار کرلی گئی ہیں جو جمعرات کو ایوان میں لائی جائے گی۔ ا س ترمیم کے آنے سے دو توجہ دلائو نوٹس ایجنڈے کا حصہ بن سکیں گے تا کہ عوامی اہمیت کے دو اہم مسائل پر حکومت سے جواب طلبی کی جا سکے۔ چیئرمین نے پشاور کے کنٹونمنٹ ایریا اور غیر ملکی قونصل خانوں کی سیکیورٹی کیلئے شہری علاقوں میں کھڑی رکاوٹیں ہٹانے کیلئے وزارت دفاع اور وزارت خارجہ سے جواب طلب کرلیا۔ علاوہ ازیں سینٹ میں فاٹا سے منتخب آٹھ ممبران نے آزاد گروپ قائم کر لیا گروپ کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر ہدا یت اللہ ہونگے ۔ سینٹ قواعدو ضوابط کے تحت آزاد پارلیمانی گروپ کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ۔ سینٹ اجلاس میں چند روز قبل بلوچستان کے علاقہ تربت میں مارے جانے والے 20 سرائیکی و سندھی مزدوروں کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔ سینٹ کا اجلاس بغیر کسی تاخیر کے مقررہ وقت پریعنی سوا 10 بجے شروع ہوا۔ ماضی میں سینٹ کا اجلاس آدھے پونے گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہونا معمول کی شکل اختیار کرگیا تھا۔ ایوان بالا میں ارکان نے نکتہ اعتراض پر تربت میں دہشت گردی کے واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا وفاقی اور صوبائی حکومت شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے‘ لیوی اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کا قتل تشویشناک ہے‘ صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں‘ عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے‘ دہشت گردوں کو ناراض بلوچ نہ کہا جائے بلکہ صرف دہشت گرد کہا جائے‘ کے پی اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹز نے مبینہ طور پر پختونوں کے شناختی ارڈ بلاک کرنے پر نادرا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈی جی نادرا نے وائسرائے کا رویہ اپنا رکھا ہے ۔سینیٹر طلحہ محمود‘ اعجاز دھامرا‘ الیاس بلور‘ سینیٹر درانی‘ تنویر چوہدری‘ فرحت اﷲ بابر‘ سعید غنی‘ کلثوم پروین‘ ایم حمزہ‘ عثمان خان ‘ میر کبیر‘ اعظم خان‘ نعمان وزیر‘ ڈاکٹر جہانزیب و دیگر ارکان سینٹ نے اہم عوامی نوعیت کے حامل معاملات ایوان میں زیر بحث لائے چیئرمین سینٹ نے اکثر ایشوز پر متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو یہ ایشوز جواب کے لئے ریفر کئے ۔ آن لائن کے مطابق سینٹ اجلاس میں ممبران کے سوالات کا جواب دینے کیلئے وزراء کی عدم موجودگی پر چیئرمین خود ہی ممبران کو تسلی بخش جواب دے کر مطمئن کرتے رہے اور ممبران کو جلد ایوان میں آنے کی تلقین کرتے رہے۔سٹاف رپورٹر کے مطابق ایوان بالا کو بتایا گیا افغانستان کیساتھ ترجیحی تجارت کا معاہدہ زیرغور ہے جس پر مزید بات چیت کیلئے وفاقی وزیر تجارت کابل روانہ ہوچکے ہیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے ضمنی سوال پر وزیر مملکت نے کہا افغانستان اب پاکستان کے بجائے ایران سے سستا سیمنٹ درآمد کررہا ہے جس کے باعث پاکستانی برآمد میں کمی آئی ہے۔ وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر فرحت اللہ بابر کے سوال کہ شکر پڑیاں کے قریب نئے پریڈ گرائونڈ کے قیام کیلئے جتنے درخت کاٹے گئے، کیا انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی سے مشورہ کیا گیا تھا۔ وزیر مملکت برائے کابینہ ڈویژن شیخ آفتاب احمد کی جانب سے واضح جواب نہ ملنے پر چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا لگتا ہے حکومت اسلام آباد میں نئے پریڈ گرائونڈ کے قیام کے حوالے سے بعض معاملات پارلیمنٹ سے خفیہ رکھنا چاہتی ہے۔