سابق چیئرمین متروکہ املاک آصف ہاشمی اور دیگر کیخلاف نیب ریفرنس کی منظوری

اسلام آباد(نامہ نگار)قومی احتساب بیورو( نیب ) کے ایگزیکٹو بورڈ کی طرف سے قومی خزانے کو 1.3ارب روپے کا نقصان پہنچانے پرسابق چیئرمین متروکہ وقف املاک سید آصف اختر ہاشمی کے خلاف بد عنوانی ریفرنس،9ارب روپے کی بد عنوانی اور غیر قانونی بھرتیوں پر ڈائریکٹر نارا کینال (ایس آئی ڈی اے) میر پور خاص سعید احمد کے خلاف انویسٹی گیشن، منگلا ڈیم رائزنگ پراجیکٹ کی تعمیر میں 4ارب روپے کی خرد برد پر واپڈا افسران کے خلاف انکوائری کی منطوری دے دی ہے جبکہ عدم ثبوت کی بنیاد پر سپیکر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا اسد قیصر اور رکن قومی اسمبلی سید افتخار حسین شاہ کے خلاف مقدمات بند کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔قومی احتساب بیورو( نیب ) کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی زیر صدارت نیب ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہوا ۔ اجلاس میں سابق چیئرمین متروکہ وقف املاک سید آصف اختر ہاشمی اور دیگر کے خلاف بد عنوانی کے ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ملزمان پر ہائی لنک کیپیٹل پرائیویٹ لمیٹڈ میں غیر قانون سرمایہ کاری کاالزام ہے جس سے قومی خزانے کو 1.3ارب روپے کا نقصان پہنچا ، ایگزیکٹو بورڈ نے میسرز عمیر سٹیل انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور کے ڈائریکٹرز/ ضمانتیوں اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی ، ملزمان پر بینک نادہندہ ہونے کاالزام ہے ، یہ کیس سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نیب آرڈیننس کے تحت نیب کو بھجوایا۔ ملزمان قومی خزانے کو 52.290 ملین روپے کا نقصان پہنچایا ۔اجلاس میں میسرز پاور پاک کمپنی کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پر بینک نادہندہ ہونے کاالزام ہے ، یہ کیس سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نیب آرڈیننس کے تحت نیب کو بھجوایا ۔ ملزمان نے قومی خزانے کو 164.826ملین روپے کا نقصان پہنچایا ۔اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی پی ایس 18عبدالرو¿ف کھوسو اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پر اختیارات سے تجاوز اور ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے اور ضلع کشمور ، کندھ کوٹ میں محکمہ ریونیو کے افسران کے لئے سرکاری زمین کی خریداری میں خرد برد کاالزام ہے جس سے قومی خزانے کو 550ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ اجلاس میں پاکستان پٹرولیم کے افسران اور دیگر کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا گیا ۔ ملزمان پر پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے حصص 2012ءمیں ایم این ڈی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن لمیٹڈ کو کم قیمت پر فروخت کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا ۔ اجلاس میں ایف جی ایس/انچارج پی آر سی سریاب کوئٹہ عنائت اللہ محکمہ خوراک کے حکام اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کے خلاف منظوری دی۔ ملزمان پر 2014-15ءکے دوران پی آر سی سریاب کوئٹہ سے گندم کے تھیلوں کی خرد برد اور بدعنوانی کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 278.70ملین روپے کا نقصان پہنچا ۔ ایگزیکٹوبورڈ نے سابق سیکرٹری محکمہ خصوصی تعلیم حکومت سندھ نور محمد لغاری، حکومت سندھ اور دیگر کے خلاف دوبارہ انکوائری کی منظوری دی ۔