انسانی حقوق ہمارا داخلی معاملہ ہے‘ یورپی سفیر آداب کا خیال رکھیں‘ مداخلت نہ کریں : دفتر خارجہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ایجنسیاں) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی صورتحال ہمارے عوام اور ملک کا داخلی معاملہ ہے۔ پاکستان اس سلسلہ میں تمام عالمی معیار پورے کرنے کیلئے مسلسل اقدامات کر رہا ہے اور یورپی و دیگر ملکوں کے سفیر عالمی سفارتی آداب کی پاسداری کرتے ہوئے اس داخلی معاملہ پر بتصروں سے گریز کریں۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ  تسنیم اسلم نے کہا پاکستان بھارت تجارتی تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے جلد دونوں ممالک  ایک دوسرے کو مارکیٹ تک بلاامتیاز رسائی دے دیں گے پاکستان بھارت تعلقات میں دفتر خارجہ کا رکاوٹ بننے کا تاثر غلط ہے۔ پاکستان کو اپنے ہاں پولیو کے معاملہ پر کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ تشویش ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس معاملہ  پر  پوری توجہ  دے رہی ہیں پولیو کے مکمل انسداد کا تہیہ  کر رکھا ہے۔ صوبہ خیبر پی کے اور  فاٹا میں اکثر بچوں کو پولیو ویکسین پلا دی گئی ہے۔ اس دوران عالمی ادارہ صحت کی سرابرہ بھی یہاں  موجود تھیں، انہیں سکیورٹی مسائل کے بارے میں بھی  بتایا گیا۔ ان کے ساتھ بہت مفید ملاقاتیں ہوئیں عالمی ادارہ صحت نے انسداد پولیو کیلئے پاکستان کی بھرپور مدد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ جدہ میں مسلمان علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ پولیو ویکسینیشن حلال ہے۔ پولیو ویکسین انڈونیشیا اور  دیگرمسلمان ملکوں سے منگوائی جا رہی ہے۔ ایک ملک کے علاوہ کسی ملک کی طرف سے  پولیو کے حوالے سے پاکستان پر پابندی عائد کرنے کی کوئی اطلاع نہیں۔ پاکستان جی ایس پی پلس  میں شامل ہو چکا اور یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ  تجارت  سے کسی کو یکطرفہ فائدہ نہین ہوتا۔  اس تجارت سے یورپ کو بھی فائدہ  پہنچے گا۔ جہاں تک یورپی یونین کی طرف سے  انسانی حقوق کا معاملہ اٹھانے  کی بات ہے تو واضح رہے کہ پاکستان انسانی حقوق کے بارے میں 27 عالمی معاہدوں کا رکن ہے ان معاہدوں میں پاکستان کی شمولیت کا پراسس برسوں پہلے اس وقت شروع ہو جب جی ایس پی پلس  کی بات نہیں چل رہی تھی۔ ان معاہدوں کے رکن ملکوں کو انسانی حقوق کی صورتحال مزید بہتر بنانے کیلئے ضروری قانون سازی سمیت متعدد اقدامات کرے پڑتے ہیں جو پاکستان نے بھی کئے ہیں۔ پاکستان 1990 سے یہ اقدامات کر رہا ہے جو اب بھی جاری ہیں۔ پاکستان توقع کرتا ہے کہ یورپی یونین  اور دیگر ملکوں کے سفیر بھی عالمی سفارتی روایا ت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے داخلی امور  پر تبصرے کرنے  سے اجتناب کریں گے۔ ایک سوال کے جواب  میں ترجمان نے کہا کہ متعدد ملکوں کے ساتھ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کی بات چل رہی ہے یہ علم نہیں کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کس ملک کی طرف سے  ڈیڑھ ارب ڈالر دینے کی بات کی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ سلامتی کے شعبہ میں ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں۔ اب بھی اس موضوع پر بات چیت ہوئی لیکن کوئی معاہدہ  طے نہیں کیا گیا۔ سلامتی کے شعبے میںپاکستان کا تعاون زیادہ تر تربیت فراہم کرنے کے حوالہ سے ہے۔ اسلامی نظریہ کونسل کی طرف سے  دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی سے اجازت کی شرط ختم کرنے کی سفارش پر ترجمان نے تبصرہ نہیں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے  چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کا دورہ کیا اور وہ حفاظتی انتظامات سے بہت مطمئن ہوئے۔  انہوں نے  پاکستان کی ایٹمی تنصیبات  کی سیفٹی پر مکمل اطمینان  کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم کے دورہ برطانیہ کی بات چل رہی ہے اور تاریخیں طے نہیں پائیں۔ خلیجی ملکوں کے درمیان اختلافات ان کا داخلی معاملہ ہے اس سے قطع نظر پاکستان ان تمام ملکوں سے اپنے تعاون اور تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ پاکستان ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے معاملہ میں مکمل  سنجیدہ ہے اس ضمن میں متعدد تجاویز زیر غور ہیں۔ برطانیہ سے بڑے پیمانے پر پاکستانیوں کو بے دخل نہیں کیا جا رہا البتہ کچھ غیر قانونی طور پر مقیم  افراد کو یقیناً واپس بھجوایا جاتا ہے اس ضمن میں پاکستان کا یورپی یونین کے ساتھ ایک معاہدہ بھی موجود ہے۔  ہیگ میں وزیراعظم نواز شریف کی امریکی صدر کے ساتھ باضابطہ  دوطرفہ ملاقات کا کوئی پروگرام  نہیں ہے۔ افغانستان میں صدارتی انتخاب کیلئے پاکستان سے جو بھی مدد مانگی گئی اور جس قابل ہم ہوئے وہ مدد فراہم کی جائے گی۔ افغان مہاجریں  شائد کسی انتظامی وجوہ کے تحت افغانستان کے صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے لیکن  ہمارے ساتھ اس معاملے کاکوئی تعلق نہیں یہ سوال افغان حکومت سے پوچھا جانا چاہئے۔ حکومت اس ضمن میں تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے۔ پاکستان نے کونسل آف یورپ کو قیدیوں کی واپسی کے کنونشن میں شمولیت کیلئیے خط لکھاہے۔ یہ طویل طریقہ کار ہے  ہمیں ابھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ملائیشیا کے لاپتہ طیارہ کی تلاش کیلئے کوئی مدد درکار ہوئی تو پاکستان فراہم کرے گا۔ گوانتاناموبے میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد معلوم نہیں لیکن اس معاملہ میں  ہم امریکی حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت تعلقات کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنا حکومت اور پارلیمنٹ  نے کرنا ہے۔ پاکستان امریکہ سٹرٹیجک  ڈائیلاگ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پولیو کا معاملہ کسی اور ملک سے زیادہ ہمارے لئے زیادہ باعث تشویش ہے۔ وفاقی وصوبائی حکومتیں پولیو سے نمٹنے کے لئے پرعزم ہیں۔ پولیو کا خاتمے ہمارے اپنے مفاد میں ہے بھارت کے سوا کسی اور نے اس حوالے سے پاکستانیوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ یورپی سفیر پاکستان کے اندرونی معاملات میں  مداخلت نہ کریں امید ہے وہ بین الاقوامی آداب کا خیال رکھیں گے۔ برطانیہ نے پاکستان کی داخلی سلامتی پالیسی کی حمایت کی ہے  مشیر خارجہ سرتاج عزیز ان دنوں برطانیہ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے پاک برطانیہ سٹرٹیجک جائزہ اجلاس میں شرکت کے ساتھ ساتھ برطانوی وزیر داخلہ ، وزیر دفاع اور دوسرے اہم وزراء سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات اور تعاون کے فروغ پر بات ہوئی ہے۔ برطانوی وزیر دفاع کے ساتھ ملاقات میں پاکستان، برطانیہ دفاعی تعاون اور افغانستان سے نیٹو انخلاء کے بعد کی صورت حال پر بات چیت ہوئی ہے ۔ ان ملاقاتوں میں 2015 میں دوطرفہ تجارت کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا جی ایس پی پلس سٹیٹس کے علاوہ پاکستان کے یورپی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم ہوں گے۔ بہت سے ممالک جن میں خلیجی ممالک اور ترکی شامل ہے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے بہت سے معاہدے زیر غور ہیں۔ تاہم ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا پاکستان سعودی افواج کو تربیت دے رہا ہے۔  پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں ہم ان تعلقات کو تجارت، توانائی اور معیشت کے شعبے میں مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ تاہم ان ممالک کے اندرونی معاملات پر بات نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا پاکستان مکمل طور پر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے پرعزم ہیں۔ اس منصوبے کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور ہو رہا ہے ایسا کوئی تاثر نہیں کہ پاکستان اس منصوبے میں سنجیدہ نہیں۔ ایران بھی اس سے آگاہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لینے کا معاہدہ موجود ہے۔ اگر کوئی پاکستانی شہری برطانیہ سمیت کسی بھی یورپی ملک میں غیر قانونی طور پر ہو گا تو اسے واپس لیں گے یہ ہماری ذمہ داری ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ ہیگ میں امریکی صدر کی ملاقات کا شیڈول طے نہیں ہوا تاہم کانفرنس کے دوران غیر رسمی ملاقات ہو سکتی ہے۔ افغان انتخابات کے حوالے سے وہاں کی حکومت ہم سے جو بھی تعاون مانگے گی ہم مکمل معاونت کریں گے۔