امید ہے فوج قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فرض انجام دیگی : چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ ایجنسیاں) چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ ملک کا آئین ہی سپریم ہے اور آئین نے سپریم کورٹ کو ملکی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور توازن برقرار رکھنے کی منفرد ذمہ داری سونپی ہے۔ سپریم کورٹ نے ہر بار آئین توڑنے والوں کے اقدامات کو غلط قرار دیا۔ پاکستان کا آئین اسلامی اور جمہوری سوچ کا امتزاج ہے۔ سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف کے لئے تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ سیاسی و سماجی صورت حال کے پیش نظر عدلیہ کے فیصلوں پر تضاد پایا گیا۔ آئینی انحراف اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کا زمانہ اب پیچھے رہ گیا ہے۔ عدلیہ نے مشکل حالات میں آئین اور جمہوریت کی بحالی کا راستہ نکالنے کی کوشش کی۔ تین نومبر 2007 کی ایمر جنسی کے بعد ججوں نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے لئے بے مثال تحریک چلائی، انتظامیہ کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف حکم جاری کرنے میں عدلیہ کبھی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوئی۔ عصر حاضر میں قومیں بیرونی مداخلت سے نہیں غیر قانونی حکمرانی سے زوال پذیر ہوئی ہیں۔ پی اے ایف وار کالج کراچی کے افسروں سے خطاب میں انہوں کہا کہ قانون کی حکمرانی،عدلیہ کی آزادی لازم و ملزوم ہے۔ موثر عدلیہ کے بغیر اچھی حکمرانی کا تصور محال ہے۔ آئین سے انحراف کی توثیق کرتے ہوئے بھی عدلیہ نے اس کے عرصہ کو محدود تر کر دیا۔ اداروں کو ان کی قانونی حدود میں صرف عدلیہ ہی رکھ سکتی ہے۔ مشرف کے مارشل لاء کے اسی روز سپریم کورٹ نے غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا اور پی سی او کے تحت ججوں کو حلف لینے سے روکا۔ عدلیہ نے بحالی کے بعد عمدہ کارکردگی سے عوام میں اعتماد پیدا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بڑی تعداد میں مقدمات دائر کئے جارہے ہیں۔ افواج پاکستان آئین کے تحت ملک کا اہم ادارہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنا مقدس فرض سرانجام دیں گی۔ ملک میں قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لئے آزاد عدلیہ لازمی جزو ہے۔ سپریم کورٹ اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا کردار ادا کرتی رہیگی۔ عدالت عوام کے بنیادی حقوق غصب کرنے کا جرم معاف نہیں کر سکتی۔ ملک کی تاریخ غیر آئینی اقدامات سے بھری پڑی ہے۔ آزاد اور موثر عدلیہ کے بغیر گڈ گورنس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوریت مضبوط ہے، پاکستان کے دفاع کے لئے مسلح افواج پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے پوری قوم ان کی پشت پر کھڑی ہے گڈ گورننس اور قانون کی حکمرانی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، ریاست کے تینوں ستونوں کے درمیان ہم آہنگی اور توازن قائم رکھنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ عدالتیں عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کیلئے تیزی سے کام کر رہی ہیں۔