آئل کمپنیوں ڈیلرز کے مذاکرات ناکام‘ پٹرول کا بحران شدید ہو گیا‘ قلت پر مظاہرے جاری‘ سپلائی بحال نہ کرنے پر حکومت کی چار کمپنیوں کو وارننگ

اسلام آباد + لاہور (خبرنگار+ سٹی رپورٹر) آئل کمپنیوں اور پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وزارت پٹرولیم سے پٹرول کی سپلائی کے حوالے سے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ اسلام آباد، راولپنڈی سمیت پنجاب بھر میں پٹرول کا بحران مزید سنگین ہو گیا، پمپوں پر لمبی قطاریں، لڑائی جھگڑے معمول بن گئے، مختلف شہروں میں پٹرول بلیک میں300 روپے لٹر تک فروخت ہوتا رہا۔ کئی شہروں میں پٹرول کی قلت کیخلاف احتجاجی مظاہرے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے پٹرول کی مصنوعی قلت ختم کرانے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق آئل کمپنیوں اور ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وزارت پٹرولیم کے حکام کے ساتھ کمشن کے معاملے اور سپلائی کی بحالی کے حوالے سے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق پٹرولیم ڈیلرز نے کمشن چار سے پانچ فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ کیا جبکہ وزارت پٹرولیم کے حکام نے معذوری ظاہر کر دی جس سے مذاکرات ناکامی سے دوچار ہو گئے۔ دوسری جانب حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف شہروں لاہور، ملتان، سرگودھا، اٹک، چکوال، منڈی بہاءالدین، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ساہیوال، خانیوال، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، وہاڑی، لودھراں، رحیم یار خان، سیالکوٹ اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں سمیت آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد، باغ، میرپور اور دیگر تمام اضلاع میں پٹرول کا بحران برقرار رہا اور پٹرول پمپوں کے باہر گاڑیوں کی لمبی قطاریں رہیں۔ لاہور میں پٹرول پمپ مالکان نے تیل کی ”راشننگ“ شروع کر دی ہے۔ گاڑی والوں کو 5سو جبکہ موٹرسائیکل سوار کو ایک سو روپے سے زائد کا تیل نہیں دیا جا رہا ہے۔ اس تمام صورتحال میں رکشہ، ٹیکسی اور ٹرانسپورٹرز نے منہ مانگے کرائے وصول کرنا شروع کردئیے۔ ننکانہ میں ضلع بھر کے پٹرول پمپوں پر پٹرول کی قلت بدستور جاری ہے۔ موٹر سائیکلیں پٹرول نہ ملنے کے باعث لوگوں نے گھروں میں کھڑی کر دی ہیں، بچوں کو سکول چھوڑنے اور دیگر ضروری کاموں کے لئے موٹر سائیکل سواروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شرقپور اور گردونواح میں متعدد مقامات پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود 120روپے لٹر کی فروخت پر عوام نے شدید احتجاج کیا ہے۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف سے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی مصنوعی قلت ختم کروائی جائے۔ دریں اثناءوفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے چار آئل کمپنیوں بشمول پی ایس او کو وارننگ دی ہے کہ وہ فوری طور پر پٹرول کو مارکیٹ میں لے آئیں ورنہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مصنوعی قلت کا خاتمہ کیا جائے، کراچی میں 35ہزار میٹرک ٹن سے زائد تیل پہنچ گیا ہے اور اس کی ترسیل ملک میں شروع کر دی گئی ایک دو روز میں مکمل طور پر یہ بحران ختم ہو جائے گا۔ وزارت پٹرولیم کی جانب سے جاری کردہ ہینڈ آﺅٹ میں کہا گیا ہے کہ آئل کمپنیوں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ فوری طور پر ذخیرہ کئے گئے تیل کو مارکیٹ میں لے آئیں تاکہ پٹرول کا مصنوعی بحران ختم ہو سکے۔
پٹرول بحران