ذہنی امراض کے اکثر مراکز بچوں‘ خواتےن کو تخرےب کاری مےں استعمال کرتے ہیں: قائمہ کمیٹی

اسلام آباد (آئی اےن پی /ریڈیو نیوز/وقت نیوز) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ذہنی امراض کے لئے قائم ہےلتھ سنٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد پر اظہار تشوےش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سےنٹرز مےں سے اکثر جعلی ہیں اور وہاں خواتےن او ربچوں کی برےن واشنگ کرکے تخرےب کاری مےں استعمال کےا جاتا ہے۔وزارت صحت اےسے جعلی مراکز کےخلاف کارروائی کرے۔گزشتہ روزچئےرپرسن قائمہ کمیٹی کلثوم پروین کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس مےں صحت کے وفاقی سےکرٹری اور اےڈےشنل سےکرٹری کی عدم حاضری پر شدےد برہمی کا اظہار کےا گےا اور کمیٹی نے دونوں کو شوکاز نوٹس جاری کردئےے ہیں۔ رکن کمیٹی سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ وزارت صحت کرپٹ ہے۔ نرگس سیٹھی خود کو وزیر اعظم سمجھتی ہیں، صوبوں کے فنڈز میں گھپلے ہو رہے ہیں۔ کمیٹی نے نےشنل پولےو پروگرام کے ڈی جی کو فورا عہدے سے ہٹا کر ذمہ دار افسر کو تعےنات کرنے کی ہداےات جاری کردےں اور کہا کہ عملدارآمد نہ ہوا تو سےکرٹری صحت کےخلاف سےنٹ مےں قرارداد پےش کرےں گے۔
سینٹ کمیٹی صحت