قاضی عدالتیں قرآن و سنت‘ اجماع‘ قیاس کی مدد سے فیصلے کرینگی

اسلام آباد (عترت جعفری) صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کی قرارداد کی روشنی میں جس نظام عدل ریگولیشن پر دستخط کئے ہیں اس کے تحت بننے والی قاضی عدالتوں کی کارروائی اور ریکارڈ کے لئے اردو‘ پشتو اور انگریزی میں سے کسی بھی زبان کا استعمال کیا جا سکے گا۔ یہ قانون پاٹا پر لاگو ہو گا۔ اس ریگولیشن کے تحت دارالقضا ضلع قاضی‘ اضافی ضلع قاضی‘ اہل علاقہ قاضی‘ ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالتیں بنیں گی یہ عدالتیں قرآن و سنت‘ اجماع و قیاس کی مدد سے فیصلے کریں گی۔ علاقے کا ایس ایچ او ایف آئی آر کے اندراج کے 14 روز کے اندر فوجداری کیس کا چالان پیش کرے گا۔ تاہم مخصوص حالات میں قاضی‘ ایگزیکٹو مجسٹریٹ اس وقت میں توسیع دے سکیں گے تاہم اس کی وجوہات تحریری طور پر دینا ہونگی۔ چالان وقت پر داخل نہ کرنے پر قاضی متعلقہ پولیس افسر کے خلاف مجاز اتھارٹی کو معاملہ بھیجے گا۔ مجاز اتھارٹی پولیس افسر کے خلاف کارروائی کے بارے میں قاضی کو مطلع کرے گی۔ علاقہ قاضی کو باقاعدہ طور پر جوڈیشل افسر مقرر کیا جائے گا جبکہ علاقہ قاضی کو تسلیم شدہ ادارے سے شریعت کورس کیا ہونا چاہئے۔ سول کیسز کا 6 ماہ کے اندر فیصلہ کر دیا جائے گا۔ فیصلے میں تاخیر کی وجوہات قاضی تحریری طور پر دے گا۔ فوجداری کیس کا فیصلہ 4 ماہ میں کرنا ہو گا۔ اگر فیصلے میں تاخیر کا ذمہ دار قاضی پایا گیا تو پہلے اسے ناپسندیدگی کا خط مجاز اتھارٹی دے گی اور خطوط کی تعداد 3 ہونے پر اس کا موقف سننے کے بعد سروس ریکارڈ میں اندراج کیا جا سکے گا۔
قاضی عدالتیں