پاکستان میں 22سال بڑی کانفرنس‘ مشرقی بحیرہ روم کے 21ممالک کی شرکت

اسلام آباد(قاضی بلال)پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے تحت بائیس سال بعد کوئی اتنی بڑی صحت سے متعلق کانفرنس ہوئی جو وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کی بڑی کامیابی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رےجنل کمےٹی برائے مشرقی بحےرہ روم میں مجموعی طور اکیس ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی جن میں سولہ ان ممالک کے وزیر شامل تھے ۔ کانفرنس میں 75فیصد ایسے لوگ تھے جو پہلی بار پاکستان آئے تھے ۔ وفاقی وزیرصحت سائرہ افضل تارڑ نے کانفرنس کے اختتام پر پنجابی میں کہا کہ اب ہماراجھاکااتر گیا ہے پاکستان پر امن ملک ہے ہم چاہتے ہیں اس سے اور بڑی کانفرنسیں پاکستان میں کرائی جائیں ۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل جب پاکستان آنے لگے تو ان سے لوگوں نے حیرت سے پوچھا کہ واقعی آپ پاکستان جا رہے ہیں وہاں تو امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور وہی ڈی جی چار روز پاکستان رہ کر گئے ہیں اور پاکستان کو خاص طور پرپرامن اسلام آباد کو حسین ترین قرار دیاہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہم نے ثابت کر دیا کہ دشمن ممالک اور بعض چینلز جو پاکستان کی تصویر پیش کرتے ہیں وہ غلط ہے پاکستان پرامن ملک ہے کئی ممالک ہمارے صحت کے پروگرام خصوصاً پرائم منسٹر ہیلتھ پروگرام کو اپنانے کیلئے رابطے کئے ہیں ۔آخری میں وہ اپنے لیڈر میاں نواز شریف کو بھول سکی اور کہاکہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ وژن تھا ان کی ہدایت تھی جہاں ہماری حکومت نہیں ہے وہاں بھی ان سے ملکر کام کریں ۔کانفرنس کے اختتام کے موقع پر سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے سرینا ہوٹل کے سامنے تمام پارکنگ کو ختم کرکے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی رینجرز کو اس اہم کانفرنس میں سیکورٹی انتظامات کیلئے زحمت نہیں دی گئی تھی۔