پمس کو یونیورسٹی سے الگ کرنے کیلئے حکومت کو 18اکتوبر کو ڈیڈ لائن

اسلام آباد(خصوصی نمائندہ)پاکستان انسٹیٹویٹ آف میڈیکل سائنسز پمز کو شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی سے الگ کرنے کیلئے جاری احتجاج میں شدت آگئی ۔ ڈاکٹر اور پمز کے ملازمین ہسپتال سے باہر نکل آئے اورنیشنل پریس کلب کے سامنے شدید احتجاج کیا ۔ دوسری جانب وزیر اعظم نے ترمیمی بل کو کابینہ اجلاس میں لانے کی منظوری دی ہے کابینہ کی منظوری اور مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی ترمیمی بل منظور ہو گا۔ملازمین نے حکومت کی جانب سے اس اعلان کو لولی پاپ قرار دیکر مسترد کر دیا ۔ملازمین نے چئیرمین سینیٹ رضا ربانی کے پریس کلب میں ایونٹ کے باعث پریس کانفرنس نہیں کی۔ترجمان ڈاکٹر اسفندر یار کے مطابق حکومت کو اٹھارہ اکتوبر کی ڈیڈ لائن دی ہے، اس دوران گیارہ بجے تک ہسپتا ل کے تمام شعبے کھلے رہیں گے، گیارہ بجے کے بعد روزانہ احتجاج کیا جائے گا، ہسپتال کے یونیورسٹی سے الگ ہونے تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ملازمین سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے بھی نیشنل پریس کلب آمد اور ایک گھنٹہ تک ملازمین کے ساتھ موجود رہے اور کہا کہ حکومت ملازمین کے زیادتی بند کریں ان کا بنیاد حق ان کو دیا جائے۔