لیڈی ہیلتھ ورکرز کا تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج، سڑک بند کردی ، پولیس کا لاٹھی چارج، 3بے ہوش

مظفر آباد (نمائندہ خصوصی) لیڈی ہیلتھ ورکرز کا تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور چارٹر آف ڈیمانڈ کی پذیرائی کے لئے احتجاج اور اولڈ سیکرٹریٹ میں دھرنا‘ کئی گھنٹے ٹریفک کا نظام مفلوج رہا‘ خواتین مظاہرین کے ہمراہ ان کے بچے بھی شریک تھے‘ انتظامیہ اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مابین توں تکرار‘ حکومت اور انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کی گئی‘ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی یونین کی صدر یثرب بشیر کاظمی کو لیڈی پولیس نے گرفتار کرنے کے بعد احتجاج پر چھوڑ دیا‘ دبا¶کے باوجود ٹریفک بحال نہیں ہو سکی‘ تلخی کے دوران ہلکا لاٹھی چارج بھی کیا گیا‘ تین لیڈی ہیلتھ ورکرز جو کہ خود بھی علیل تھیں دھکم پیل اور ماحول کی تلخی کی وجہ سے بےہوش ہو گئی تھیں‘ انتظامیہ ٹریفک کا نظام بحال کرنے کی کوشش میں ناکام رہی۔ اس مرحلہ پر احتجاجی دھرنے سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی نمائندگان یثرب بشیر‘ صوفورہ کاظمی‘ زاہدہ‘ شفیق ملک‘ شاہدہ سرور عباسی‘ نگہت خاکسار‘ نذیر فاطمہ اور دیگر مقررین نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو 8 ماہ کی تنخواہ نہ ملی ہے نہ انہیں نارمل میزانیہ پر منتقل کیا گیا ہے‘ خواتین ڈیوٹی تو سرانجام دیتی ہیں مگر وعدوں کے باوجود حکومت ٹال مٹول کی پالیسی پر گامزن ہے‘ فاقہ کشی سے اختر بی بی بیوہ منیر بھی جاں بحق ہوئی ہے‘ بچوں کی نہ فیس ادا سکتی ہیں‘ نہ اشیاءخورد نوش‘ نہ تعلیمی اخراجات پورے ہو سکتے ہیں‘ حکومت نے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے‘ خواتین گرمی میں سڑکوں پر دھرنا دئیے بیٹھی ہیں یہ حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ احتجاجی دھرنے سے سابق وزیر جنگلات رہنما پی پی پی آزاد کشمیر سردار جاوید ایوب‘ سابق پی پی او شوکت جاوید میر‘ مسلم کانفرنس کے سابق امیدوار اسمبلی راجہ ثاقب مجید خان‘ مسلم کانفرنسی رہنما محترمہ سمیعہ ساجد‘ صدر سنٹرل بار راجہ آفتاب احمد خان‘ ملازمین کی مختلف تنظیموں کے عہدیداروں مالک رشید عباسی‘ خواجہ عبد الوحید‘ عمران خورشید‘ پرویز قریشی سمیت دیگر نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطالبات کی حمایت کی اور حکومت پر تنقید کی‘ متعدد صحافی اور خواتین وکلاءبھی اظہار یکجہتی کرنے والوں میں شامل تھے۔ ڈپٹی کمشنر مسعود الرحمن‘ ایس ایس پی راجہ اکمل خان‘ ڈی جی ہیلتھ چودھری محمد بشیر‘ آفیسر صحت عامہ ڈاکٹر فرحت شاہین‘ ایس ایچ او تھانہ صدر ثانیہ حسین اور دیگر انتظامی افسران کی مذاکرات کی کوشش 8 گھنٹے تک باآور ثابت نہ ہو سکیں۔ گزشتہ شام وزیر صنعت محترمہ نورین عارف‘ انتظامی و محکمہ صحت کے افسران اور احتجاجی مظاہرین کے مابین مذاکرات کا آغاز ہوا جس میں مظاہرین کوبتایا گیا کہ وزیراعظم بھی غیر ملکی دورہ پر ہیں انہوں نے مسائل کے حل کے لئے ہدایات دے رکھی ہیں‘ ان کی آمد پر مظاہرین کے مطالبات پیش کر کے حل کرائے جائیں گے۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے یقین دلایا کہ تنخواہ کی ادائیگی یکم نومبر سے شروع کر دی جائے گی۔ کئی نکات پر اتفاق ہونے پر دھرنا آئندہ کے لائحہ عمل تک موخر کر دیا گیا ہے۔