موسمی تباہ کاریوں سے پاکستان کو1941 ارب ڈالرکا نقصان ہوا،مشاہد اللہ

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں عالمی حدت کے باعث رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجہ میں واقع ہونے والی تباہ کاریوں اور ان سے نمٹنے کی تیاری کے لیے مختلف ترکیبوں سے متعلق ملکی سطح پر ہر طبقہ کے لوگوں خاص طور پر غریب اور کسانوں میں آگاہی پیدا کرنا نا گزیر ہے۔ اقوامِ متحدہ کے زیرِانتظام دنیا بھر میں ہر سال 13 اکتوبر کو منائے جانے والے آفتوں میں کمی لانے کے عالمی دن کے حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مشاہداللہ خان نے کہا کہ عالمی سطح پر ماہرین کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ لوگوں کی جانوں اور ان کے ذریعہ معاش کو موسمیاتی تباہکاریوں کے اثرات سے بچانے کےلئے مختلف تکنیکیوں کے متعلق آگاہی پیداکرنا پہلا اور اہم اقدام ہے۔ آفتوں میں کمی لانے کاعالمی دن ہر سال 13 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس سال یہ دن آفتوں سے محفوظ گھر، نقل مکانی سے نجات کے موضوع کے تحت منایا جارہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک تازہ عالمی رپورٹ کے مطابق گذشتہ دودہائیوں کے دوران دنیا بھر میں 11 ہزار کے لگ بھگ موسمی تباہ کاریوں کے واقعات رونما ہوئے جس کے نتیجہ میں 5 لاکھ 28 ہزار لوگ موت کا شکار ہوئے اور ان تمام تباہ کاریوں کا کل تخمینہ تین ٹرلین امریکی ڈالرز سے زائد کا لگایا گیا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں ایک سو تینتیس سے زیادہ موسمی تباہ کاریوں کے واقعات رونما ہوئے جس سے ملکی معیشت کو 1941 ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔