ٹیکسٹائل صنعت کو سمگلنگ اور انڈر انواسنگ سے خطرات لاحق ہیں، عامر فیاض

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) آل پاکستان ٹیکسٹائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عامر فیاض نے کہا ہے کہ ملکی خسارہ اور ڈیٹ پروسسنگ کے باعث ملک کیلئے ”سیکورٹی رسک“ پیدا ہوگیا ہے۔ چین اور انڈیا سے پاکستان میں ہونیوالی سمگلنگ اور انڈر انواسنگ کے باعث 10ارب ڈالر کی ڈمپنگ ہورہی ہے۔ ایف بی آر 200ارب روپے کے فنڈز دبا کر بیٹھا ہے۔ وزیراعظم کے ٹیکسٹائل پیکج کے تحت اب تک محض 9ارب روپے ملے ہیں۔ عامر فیاض نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز تنظیم کے دوسرے عہدیداروں کے ہمراہ آپٹما کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آپٹما کا وفد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کیلئے اسلام آباد میں موجود ہے۔ یہ ملاقات آج ہوگی۔ عامر فیاض نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ٹریڈ خسارہ ہے۔ 2016-17ءمیں ملک کی درآمدات 53ارب ڈالر تھیں جبکہ برآمدات 20ارب ڈالر رہیں۔ اس سال مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ 9ارب ڈالر ہوچکا ہے۔ اس سے تخمینہ لگایا جاسکتا ہے کہ مالی سال کے اختتام تک یہ 36بلین ڈالر ہوجائے گا۔ اس میں سے ترسیلات وطن کو نکالا جائے جو19بلین ڈالر ہیں تب بھی خسارہ 17بلین ڈالر ہوگا۔ ملکی قرضوں کی ادائیگی اور ڈیٹ پروسسنگ کے لئے 7یا 8ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ اس طرح مجموعی طور پر 25ارب ڈالر ملک کو چاہیے یہ قابل برداشت نہیں نیشنل سیکورٹی رسک ہے۔ انہوں نے کہا حکومت کو بارہا خطرے کی جھنڈی دکھاتے رہے ہیں۔ تجارتی گیپ 5سے 13ارب ڈالر ہوا اور اب یہ 17ارب ڈالر تک جانے لگا۔ حکومت کو چاہیے ”ایکسپورٹ لیڈ گروتھ“ کی پالیسی اپنائے۔ جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا ، بھارت اور بنگلہ دیش نے اس پالیسی کے تحت ہی ترقی کی ہے۔ اس وقت ٹیکسٹائل کی صنعت کی لاگت میں سب سے زیادہ حصہ توانائی کا ہے جو 35فیصد بنتا ہے۔ ملک میں صنعت کیلئے بجلی کا نرخ 11سینٹ فی کلو واٹ آور ہے جبکہ انڈیا، چین میں بجلی کی لاگت 7سینٹ فی کلو واٹ آور ہے۔ ہمارے ملک میں بجلی کی لاگت بھی 10فیصد سے زیادہ ہے۔ صنعت کو سمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کے باعث بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ چین سے پاکستان کو برآمد ہونے والی اشیاءکی ویلیو اور پاکستان کسٹمز کے پاس موجود چینی اشیاءکی ویلیو کے درمیان 6ارب ڈالر کا فرق ہے۔ بھارت کے حوالے سے 2سے تین ارب ڈالر کی سمگلنگ یا انڈر انوائسنگ موجود ہے جس کی وجہ سے صنعت کا بیڑہ غرق ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں تمام ایشوز کو اٹھایا جائے گا۔ آپٹما پنجاب کے صدر علی پرویز نے کہا ہے کہ سٹکچرل مسائل کو دور کیا جائے۔ ملک میں را میٹریل کی وہی قیمت ہونی چاہیے جو دنیا بھر میں ہے۔ آپٹما کے سینئر وائس چیئرمین عادل بشیر نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل کی صنعت کو مسابقت کے قابل بنانا ضروری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں عامر فیاض نے کہا کہ روس سرد جنگ کی وجہ سے نہیں ہارا بلکہ معاشی طور پر گر گیا تھا ۔ خسارہ تشویش کی بڑی وجہ ہے۔ سٹیٹ بنک بھی کہہ چکا ہے کہ اضافی وسائل ہوں گے تو پھر آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ا نہوں نے کہا کہ روپیہ 15سے 25فیصد تک ”اوور ویلیو“ ہے۔ ملک کے اندر زرمبادلہ کی شرح آزاد نہیں ہے ۔ ملک کے اندر اب بھی ٹیکسٹائل کی 60سے زائد کمپنیاں نازک حالت کے اندر ہیں۔