جسٹس ہیلپ لائن کی جناح ہسپتال کی خراب صورتحال پر سوموٹو ایکشن کی استدعا

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ آف پاکستان میںجسٹس ہیلپ لائن کی جانب سے منےارٹی کے سربراہ اتم پرکاش اور ایڈووکیٹ ندیم شیخ نے جناح اسپتال کی خراب صورتحال پر سوموٹو لینے کے لیے درخواست دائر کردی ہے، درخواست میں ،چیف جسٹس سے جناح ہسپتال سمیت شہر کے دیگر سرکاری اسپتالوں کی خراب صورتحال کا سوموٹو ایکشن لینے کی استدعا کی گئی ہے، استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام سے اسپتال کی خراب صورتحال پر انکوائری کرائی جائے اور اس پر ایکشن لیا جائے۔ منےارٹی کے سربراہ اور ایڈووکیٹ ندیم شیخ کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختےار کےا گےا ہے کہ جناح اسپتال کا قیام 1930 میں ہوا جیسے پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے شہریوں کے لئے 1947 میں مختص کروایا ،قائد اعظم نے پاکستان کی عوام کے لئے اس اسپتال کو قائم کروایا اور تمام سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ، مگر اب گزشتہ کئی سالوں سے جناح ہسپتال کی بد ترین صورتحال ہے مریضوں کو ادویات کی عدم سہولیات سمیت صفائی کا نظام بھی خراب ہے۔ جناح اسپتال اور قومی ادارہ امراض برائے قلب میں مفت علاج تو دور مریضوں سے لاکھوں روپے علاج کے نام پر لیے جاتے ہیں کروڑوں اربوں روپے کے فنڈز وصول کرنے کے باوجود صوبائی حکومت نے اسپتال کی زیر تعمیر عمارت اور مریضوں کے لئے کوئی خاص انتظامات نہیں کیے ،پاکستان کے بانی قائد اعظم نے اس اسپتال کو عوام کے لئے بنایا تھا جسے صوبائی حکومت نے تباہ کن اداروں میں تبدیل کردیا ہے، پہلے جناح اسپتال جہاں 5000 مریضوں کو روزانہ کی بنیاد پر او پی ڈی میں شفٹ کیا جا سکتا تھا 1000 سے زائد مریضوں کی ایمرجسنی وارڈ میں گنجائش تھی اور 50 سے زائد ڈیلیوری کیسز کو دیکھنے والا اسپتال آج مریضوں کو دیکھنے (ابتدائی چیک اپ)سے بھی قاصر ہے۔