پی ٹی سی ا یل ملازمین مراعات کیس، توہین عدالت مقدمہ پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ میں پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن لمیٹڈ( پی ٹی سی ایل۔اتصالات)کے ملازمین کو دیگر سرکاری اداروں کے مساوی تنخواہ ، پینشن و دیگر مراعات نہ دینے سے متعلق عدم عمل درآمد پر توہین عدالت کیس میں فریقین وکلاءکے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلےا گےا ہے ۔ دوران سماعت جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے ملازمین جب کام کرتے ہیں تو ان کو ان کا جائز حق ملنا چاہئے ، رےاست شہریوں اور ملازمین کے ساتھ امتےازی سلوک نہیں کرسکتی ، آئین و قانون کے مطابق ہر شخص کے حقوق برابر ہیں ۔جسٹس اعجاز افضل خان جسٹس خان ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے پاکستان ٹیلی کام ایمپلائز پیپلز یونیٹی، راجہ رےاض، سعید احمد بھٹی بنام پی ٹی سی ایل (اتصالات) کے 712ملازمین سے متعلق کیس کی سماعت کی تو پی ٹی سی ایل کے وکیل نے آئینی و قانونی نکات پر اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا پی ٹی سی ایل کے شیئرز اتصالا ت کو فروخت کردیئے گئے ہیں ان کے اپنے رولز ہیں ، یہ جذوی طور پر سرکاری ملازمین ہیں اسی لیئے ان پر دیگر سرکاری قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا ، انہوں نے استدعا کی کہ کیس کو واپس اسلام آباد ہائی کورٹ بھیجنے کی استدعا کی جو عدالت نے مسترد کردی۔