”سٹیل ملز کے ریٹائر ملازمین کو 10 ارب 80 کروڑ ادا کرنے ہیں“

اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی)ءسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیدوار کا اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز کے ریٹائرڈ ملازمین کو تنخواہوں ، پروویڈنٹ فنڈ اور پنشن وغیر ہ کی عدم ادائیگی کا معاملہ تفصیلاً زیر غور آیا ۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی اہم ہے غریب اور بے بس ملازمین جو کہ اپنی مدت ملازمت پوری کر چکے ہیں لیکن اپنے حق سے محروم ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹیل ملز ایک اہم قومی اثاثہ ہے اور اس کے ملازمین کے حقوق کا تحفظ ہر قیمت پر کیا جائے گا۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ پاکستان سٹیل ملز چلے ۔ سینیٹر اورنگزیب نے یہ بات زور دے کر کہی کہ پاکستان سیٹل ملز کے ملازمین کا استحصال بند کیاجائے اس سے ادارے اور ملک کی بدنامی ہو رہی ہے ۔ہنگامی بنیادوں پر ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے ادارے کو بحران کی کیفیت سے نکالا جائے ہم ادارے کی زبوں حالی اور ملازمین کی مشکلات پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے ۔ سٹیل ملز کے چیف فنانشنل آفسیر عارف شیخ نے کمیٹی کو بتایا کہ 2008-9 سے جون2015 تک پروویڈنٹ فنڈ ادا کیا گیا ہے جبکہ گریجویٹی 2013 کے بعد ادا نہیں کی گئی ۔ سٹیل ملز کے ریٹائرڈ ملازمین کے 10 ارب80 کروڑ روپے واجب الاادا ہیں ۔کمیٹی نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیااور فیصلہ کیا کہ اگلے اجلاس میں فنانس ، قانون اور نجکاری کی وزارتوں کو طلب کیا جائے گاتاکہ اس مسئلے کا مناسب حل نکالا جا سکے ۔ سٹیل ملز کے حکام نے بتایا کہ اس وقت ساڑھے تین ہزار ملازمین ایسے ہیں جن کو ابھی تک ان مدوں میں کوئی رقم بھی نہیں ملی ۔کمیٹی کو سٹیل ملز میں930ایکڑ پر قائم کیے گئے صنعتی پارک کے بارے میں بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔ این آئی پی کے حکام نے بتایا کہ ای سی سی کے فیصلے کے مطابق پاکستان سٹیل ملز نے 930 ایکڑ رقبہ این آئی پی کو صنعتی پارک کے قیام کےلئے2007 میں دیا تھا اور اس سلسلے میں پاکستان سٹیل ملز اور این آئی پی کے مابین باقاعدہ معاہدہ بھی ہوا تھا اور اس معاہدے کے تحت مختلف کمپنیوں کو زمین کی الاٹمنٹ کی گئی ، کمیٹی نے این آئی پی اور سٹیل ملز کے مابین ہونے والے معاہدے ، مختلف کمپنیوں کو الاٹ کی گئی زمین اور اس سے متعلقہ دیگر دوسری تفصیلات طلب کر لیں تاکہ کمیٹی شفاف انداز میں معاملے کی چھان بین کر سکے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 1500 ایکڑ کے قریب زمین سی پیک منصوبے کے تحت خصوصی اقتصادی زون بنانے کےلئے زیر غور ہے جس کی وزیراعظم نے باضابطہ منظوری دے دی ہے اور رقبے کی قیمت کا تعین کرنا باقی ہے ۔ غیر معیاری گھی فراہم کرنے والی گھی ملز کے خلاف قانونی اقدامات کیے گئے ہیں اور ان کے ساتھ معاہدوں کو ختم کر دیا گیا ہے ۔بلوچستان اور گلگت میں خالی اسامیوں پر تعیناتی کے حوالے سے بھی اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ فاٹا میں یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کا نیٹ ورک وسیع کرنے کی خاطر فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ کی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔ پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے حکام نے بھی سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا ۔ایکسپلوسوڈیپارٹمنٹ کے حکام نے کمیٹی کو ادارے کی افرادی قوت ، دھماکہ خیز مواد کے لائسنس کے اجراءاور مانیٹرنگ کے کام کے طریقہ کار کے بارے میں بتایا ، حکام نے کہا کہ محکمہ کے پاس اس وقت 6 انسپکٹرز ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی نے لائسنس دینے سے پہلے بارود کو سٹور کرنے کے نظام کا معائنہ کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ادارے کا چیک اینڈ بیلنس بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔کمیٹی نے ادارے کی افرادی قوت کو بڑھانے کی سفارش کی ۔ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز اورنگزیب خان، مسز خالدہ پروین ،ملک نجم الحسن، کلثوم پروین ، میاں محمد عتیق شیخ ، خانزادہ خان، تاج حیدر، وزیر مملکت برائے صنعت و پیدا وار سردار محمد ارشد خان لغاری اور وزارت سے ملحقہ مختلف محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔