کیپٹن(ر) صفدر کے بیان کا نواز شریف ، پارٹی یا حکومت سے کوئی تعلق نہیں : وزیراعظم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ محمد صفدر سابق وزیراعظم کے داماد ہیں۔اس حیثیت میں انہیں زیادہ ذمہ داری سے کردار ادا کرنا چاہئے۔ پارٹی لیڈر کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ بیان پر ان سے بات کروں۔ جبکہ بیان سے میاں نوازشریف‘ پارٹی یا حکومتسے کوئی تعلق نہیں۔ ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ معاشی چیلنجز پر قابو پا لیں گے۔ ہماری حکومت کے آنے کے وقت سے اب بہت بہتری آئی ہے۔ پی آئی اے کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہیں۔ برآمدات کے ایشوز ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے ریلویزکو بحران سے نکالا۔ حکومت سندھ سے کہا تھا کہ وہ سٹیل ملز ایک روپے میں لے لے۔ اسحاق ڈار سے استعفیٰ نہیں مانگا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ایف پی سی سی آئی کے وفد نے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر تجارت ملک پرویز بھی ملاقات میں موجود تھے۔ وزیراعظم کی ایف پی سی آئی کے وفد سے ملاقات کا مقصد ملک کی تجارتی صلاحیت کو بہتر بنانے کیلئے تمام سٹک ہولڈرزکے ساتھ مشورہ کرنا ہے۔ وفد نے برآمدات بڑھانے کے لئے متعدد تجاویز پیش کیں۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائیگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب تک نجی شعبہ پالیسی کا اہم حصہ نہیں بنتا۔ اس وقت تک معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
گورنرکے پی کے اقبال ظفر جھگڑا نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی۔جس میں صوبے پر مجموعی صورتحال اور فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کےلئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کے بارے میں عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس مقصدکےلئے ماحول کو سازگار بنانے اور ضروری قانونی اور انتظامی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ملاقات میں ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی۔

دریں اثناءایران کے سفیر مہدی ہنر دوست نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں پر اطمینان ظاہرکیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے نیویارک میں صدر حسن روحانی سے ملاقات کا تذکرہ کیا۔ ایرانی سفیر نے قیادت کی طرف سے وزیراعظم کو تہنیت کا پیغام دیا۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات میں مزید وسعت کا خواہاں ہے۔ جاپان کے سفیر تاکای کورائی نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جاپان کو قریبی دوست ملک سمجھتا ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان میں سلامتی کی صورتحال میں نمایاں بہتری کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگرد گروپوں کے خلاف کامیاب آپریشنز کئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تجارت‘سرمایہ کاری‘ توانائی سمیت مختلف شعبوں میں جاپان کے ساتھ مزید تعاون کا خواہاں ہے۔ جاپان پاکستانی ٹیکسٹائل کی برآمد کےلئے پاکستان کو عارضی ٹیرف اقدامات سے تین یا چار سال کا استثنیٰ دے۔ انہوں نے جاپانی کمپنیوں کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی تعریف کی۔ جاپانی سفیر نے کہا کہ کاروبار دوست ملک کی حیثیت سے پاکستان کا جاپان میں تاثربدلا ہے۔