توانائی کمیٹی نے ایران سے مزید 100 میگاواٹ بجلی خریدنے کی منظوری دیدی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں کابینہ کی توانائی کمیٹی کے اجلاس میں پورٹ قاسم پر کوئٹہ سے بجلی تیار کرنے کے پلانٹ ‘ نیلم جہلم پراجیکٹ‘ تربیلا IV اور گولن گول پن بجلی گھر سے ٹرانسمیشن لائنز کے منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ ایم ڈی این ٹی ٹی سی سی نے اجلاس میں بنایا تمام ٹرانسمیشن لائنز بچھانے کے منصوبوں بے میں کام تیز کر دیا گیا ہے۔ پورٹ قاسم پلانٹ کو ٹرانسمشن لائن 31 اکتوبر سے قبل بچھا دی جائے گی۔ جبکہ نیلم جہلم اور تربیلاIV کی ٹرانسمیشن لائنز بھی منصوبوں سے بجلی کی پیداوار آنے سے قبل مکمل ہو جائیں گی۔ گولن گول سے 13 میگاواٹ بجلی دسمبر سے قبل ملنا شروع ہو جائے گی۔ اس سے وادی چترال میں سب کو بجلی دستیاب ہو جائے گی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی وادی چترال کے مزید دو منصوبوں کی منظوری کے عمل کو تیز کیا جائے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت ایران مزید 100 میگاواٹ بجلی دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ جو موجودہ بجلی کی سپلائی کے علاوہ ہوگی۔ اس اضافی بجلی کے لئے ٹرانسمیشن لائن اور گرڈ سٹیشن بنانا پڑے گا۔ کابینہ کمیٹی نے تجویز کی منظوری دیدی اور وزارت کو ہدایت کی ایران سے مزید 100 میگاواٹ بجلی خریدے کے انتظامات کئے جائیں۔ مکران ڈویژن کو نیشنل گرڈ سے ملایا جائے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 2017-18ء سے پاکستان کی پاس بجلی فاضل میں ہو جائے گی۔ جبکہ آئندہ برسوں میں بجلی کی اضافی پیداوار کے منصوبے بھی مکمل ہوئے جائیں گے۔