پی اے سی نے نندی پور منصوبہ کی اضافی لاگت رپورٹ طلب کر لی

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس مےں بتاےا گےا نندی پور پاور پلانٹ سے کم بجلی پیدا ہونے سے 9ارب 12 کروڑ کا نقصان ہوا ۔ جولائی2015 سے جون 2016 کے دوران 1ارب 32 کروڑ 16 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی گئی یہ نقصان کم پیداوار کی وجہ سے جینکو5کو برداشت کرنا پڑا،912ملین یونٹس کم پیداوار ہوئی،2233ملین یونٹس کی پیداواری صلاحیت رکھنے کے باوجود صرف 1321ملین یونٹ پیداوار جولائی 2015سے جون 2016تک رہی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ فرنس آئل پلانٹ کی پیداواری استعداد کم ہے،جس پر چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ 22ارب روپے کا منصوبہ تھا،جو کہ 66ارب تک پہنچ چکا ہے،3ماہ میں اس کی رپورٹ مانگی گئی تھی لیکن اب 4ماہ ہو گئے ابھی تک رپورٹ نہیں ملی، جس پر پی اے سی سیکرٹریٹ نے بتایا کہ اس پر انکوائری رپورٹ سیکرٹریٹ کو مل چکی ہے،جس میں رپورٹ نیب کو بھجوا کر ریفرنس بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ2006میں منصوبہ شروع کیا گیا تھا، کبھی فرنس آئل اور کبھی گیس پر اس منصوبے کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔ممبر کمیٹی اعظم خان سواتی نے کہا کہ 2006کا منصوبہ آج ہمارے گلے پڑا ہوا ہے،اگر منافع نہیں ہو سکتا کم ازکم نقصان بھی تو نہ ہو،نندی پور کے ایک اور آڈٹ اعتراض میں انکشاف کیا گیا کہ غیر ضروری اخراجات کی مد میں 21کروڑ روپے سے زائد خرچ کئے گئے،جس پر کمیٹی نے استفسار کیا کہ اس وقت ایم ڈی کون تھا،آڈٹ حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کےلئے ایم ڈی کی پوسٹ تخلیق کی گئی اور جینکو5بنایا گیا اور ایک شخص کو ایم ڈی لگا دیا گیا، جس پر کمیٹی رکن شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ میں اس شخص کا نام نہیں لیتا مگر وہ اس وقت سیکرٹری زراعت پنجاب ہے،پہلے اس نے نندی پور کا بیڑہ کیا اور اب تو پنجاب میں زراعت کا بیڑہ غرق کرے گا، جس پر چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ سیاستدانوں نے اگر چوری کی ہے تو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے،مگر آج بدنامی ہمارے گلے میں ڈالی گئی ہے،جو چور ہے اس کو پکڑا جائے،۔ اجلاس میں وزارت توانائی ڈویژن کے مالی سال 2016-17کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزارت توانائی ڈویژن کی بجٹ گرانٹ پر کمیٹی نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک 2012میں شروع ہونے والے منصوبے پر کام کی رفتار سست ہے، پانی کا مسئلہ درپیش ہے، اس دوران پلانٹ کی پیداواری صلاحیت 2ارب 23 کروڑ 38 لاکھ یونٹ تھی۔ اکیانوے کروڑ اکیس لاکھ یونٹ کم بجلی پیدا ہونے سے نو ارب بارہ کروڑ کا نقصان ہوا،چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ نے کہا کہ منصوبے کی لاگت بائیس ارب سے بڑھ چھیاسٹھ ارب کیسے ہو گئی۔کمیٹی نے نندی پور پاور منصوبے کی لاگت میں اضافے کی رپورٹ مانگ لی۔آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کے الیکٹرک وفاق کے 20ارب کا نادہندہ ہے جس پر خورشید شاہ کے الیکٹرک پر برس پڑے اور کہا کہ کے الیکٹرک خود وفاق کا 20 ارب روپے کا نادہندہ ہے، کے الیکٹرک کا بل بھرنے میں 3 دن تاخیر ہوتو بجلی کاٹ دی جاتی ہے، کے الیکٹرک نے صارفین کا بیڑا ہی غرق کردیا ہے، مہینے کے آخر میں بل دیتے ہیں اورایک دن میں بل جمع کرانا ہوتا ہے، کے الیکٹرک کا بل کی وصولی میں رویہ ظالمانہ ہے، ایک دن کے تاخیر پر بھاری جرمانہ لیتا ہے، عوام سے سوتیلوں والا سلوک کرتی ہے، کمیٹی نے اگلے اجلاس میں این ٹی ڈی سی سمیت وزارت توانائی سے ٹرانسمیشن کے حوالے سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ طلب کرلی۔ کمیٹی نے لیسکو کی جانب سے 3ارب روپے کی اووربلنگ کے مسئلے کے حل نہ ہونے پر سردار عاشق حسین گوپانگ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی بنا دی، جس میں راجہ جاوید اخلاص اور صاحبزادہ نذیر سلطان ممبر ہوں گے۔اجلاس میں مظفر گڑھ پاور پلانٹ جو کہ 85میگاواٹ کا تھا اورشاہدرہ پاور پلانٹ 260میگاواٹ کے حوالے سے انکشاف ہوا کہ دونوں پاور پلانٹس بند ہیں،مگر ان پرایک ارب 47کروڑ 66لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات ہوئے ہیں،جس پر کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ 2پاور پلانٹس بند پڑے ہیں اور اخراجات ہو رہے ہیں،107لوگوں کی تنخواہ بھی ایک ارب نہیں بنتی،ایک ہزار بندوں کی 36مہینوں کی تنخواہ بھی اگر لگائی جائے تو اتنے اخراجات نہیں ہوتے۔ کمیٹی نے ایم ڈی پیپکو کو اس معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کر دی،کمیٹی نے وزارت توانائی کے جاری منصوبوں پر تاخیر پر وزارت ترقی و منصوبہ بندی اور کابینہ ڈویژن کو طلب کرلیا، کمیٹی نے تینوں وزارتوں کو مشترکہ بریفنگ دینے کی ہدایت کر دی۔ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والا پاکستان پانچواں ملک ہماری تقدیر کا کیا حال ہو گا، پہلی سہ ماہی کی ریلیز اب تک نہیں ہوئی۔ وزارت خزانہ نے کہا کہ اگست کے مہینے میں وزارتیں علیحدہ ہوئیں، اگر یہ اس سے پہلے لے آتے تو وزارت فنڈز جاری کر دیتی، کمیٹی نے بجٹ گرانٹ پر 15دن میں تفصیلات طلب کرلیں۔ کمیٹی رکن شیری رحمان نے کہا کہ تمام منصوبوں کا یہی حال ہے، سیکرٹری توانائی ایم ڈی جیز کے فنڈزآخر میں جاری ہوتے ہیں،2016میں فنڈز جاری ہوئے اور مالی سال ختم ہونے میں کچھ وقت تھا، کابینہ ڈویژن کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس کو دیکھتے ہیں۔ شیری رحمان نے کہا کہ دیہی علاقوں کے پی سی ون بنانے میں تاخیر برتی جا رہی ہے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ یہ 2015-16کے بجٹ گرانٹ ہے، جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ دو سال میں منصوبوں کے پی سی ون نہیں بنائے گئے، اس سے بڑی کمزوری کیا ہو گی، سیکرٹری توانائی ڈویژن نے کہا کہ 32فیصد کام ایم ڈی جیز پر کام مکمل ہو گیا ہے، تین ہزار آٹھ سو سے زائد سکیمیں ہیں، 3ہزار 156مکمل ہو چکی ہیں،711سکیموں پر کام جاری ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ سیکرٹری توانائی کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اعظم سواتی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے پسماندہ علاقوں کی 6سکیمیں ہیں، ہمیں آج تک مطمئن نہیں کیا جا سکا، کہا گیا تھا کہ مطمئن کریں گے۔ کمیٹی رکن شاہدہ اختر علی نے کہا کہ ایم ڈی جیز کا اسٹیٹس بھی تبدیل ہو رہا ہے اور یہ اس ڈیز جیز رہا ہے، کمیٹی نے وزارت توانائی کے جاری منصوبوں پر تاخیر پر وزارت ترقی و منصوبہ بندی اور کابینہ ڈویژن کو طلب کرلیا، کمیٹی نے تینوں وزارتوں کو مشترکہ بریفنگ دینے کی ہدایت کر دی، نیساک کے آڈٹ اعتراضات کے جائزے کے موقع پر کمیٹی نے ایم ڈی نیسپاک کی عدم تعیناتی پر برہمی کا اظہار کر دیا۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ نیسپاک میں 16ملازمین جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہوئے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 11کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا۔ اعظم سواتی نے کہا کہ ایک بھی جعلی ڈگری والا ملازم ہے اسے جیل جانا چاہیے، جس پر شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ 5600ملازمین ہیں ان میں سے 16جعلی ڈگری والے ہیں، پارلیمنٹ میں کتنے ایسے لوگ ہیں جو جعلی ڈگری والے ہیں۔70ارب روپے کے رینٹل پاور منصوبے کو بھی جائزے کےلئے پی اے سی میں لایا جائے تا کہ ہم بھی دیکھیں کہ کتنی کرپشن ہوئی ہے اور کیا جھوٹ ہے۔اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ جولائی 2016سے قبل واپڈا ،جینکوز اور ڈسکوز کے ذمے این ٹی ڈی سی کے تقریباً294ارب روپے واجب الوصول ہیں جس پر وزارت توانائی حکام نے جواب دیا کہ پیسکو کے ذمہ 304ارب روپے اس وقت بقایا جات ہیں اور کوئٹہ کے ذمے 136ارب روپے بقایا جات ہیں۔ اس پر چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ وزارت توانائی حکام کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ اصل اعداد و شمار کیا ہیں،یہاں 294ارب روپے بتائے جا رہے ہیں کہ تمام محکموں کی جانب بقایا جات ہیں لیکن وزارت حکام یہ بتا رہے ہیں کہ 304ارب روپے صرف پیسکو کے ذمے ہیں، اپنے اعداد و شمار درست کیجئے اور پھر کمیٹی کو آگاہ کریں، جس پر سیکرٹری توانائی نے کمیٹی سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگلے اجلاس میں درست اعداد و شمار پیش کئے جائیں گے۔