امریکہ‘ چین‘ روس‘ فرانس اور برطانیہ کے سفیروں کو ایل او سی سے متعلق بریفنگ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) کنٹرول لائن اور ورکنگ باﺅنڈری پر بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور جنگ بندی معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بارے میں جمعرات کے روز سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور فوج کے ڈائریکٹر جنرل برائے ملٹری آپریشنز نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے پاکستان میں متعین سفیروں کو بریفنگ دی۔ دفتر خارجہ کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے امریکہ، چین، روس فرانس اور برطانیہ کے سفیروں کو رواں سال ورکنگ باﺅنڈری اور کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال جارحیت اور جنگ بندی معاہدہ کی شدید خلاف ورزیوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔انہوں نے بھارتی فوج کی طرف سے جنگ بندی کی آئے روز خلاف ورزیوں اور شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان خلاف ورزیوں کے نتیجہ میں اب تک عورتوں اور بچوں سمیت پنتالیس شہری شہید اور ایک سو پچپن زخمی ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا انتہائی تحمل کے باجود بعض اوقات پاکستان کو مجبوراً جواب دینا پڑتا ہے۔ بھارتی کی جارحیت خطہ کے امن و استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہے اور بھارت کیلئے شدید تذویراتی غلط فہمی کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کا اس ضمن میں اہم کردار ہے۔پاکستان ان کے ساتھ بھر پور تعاون کر رہا ہے لیکن بھارت انہیں کنٹرول لائن تک رسائی فراہم نہیں کر رہا ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات، بطور خاص نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کے بارے میں ان کے دعوے، پاکستان کے خلاف ، بھارت کے جارحانہ عزائم کا کھلا ثبوت ہیں۔ ڈی جی ایم او نے کنٹرول لائن اور ورکنگ باﺅنڈری پر سلامتی کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکاءاجلا س نے پاکستان کے تحفظات سے اپنے ملکوں کو آگاہ کرنے کا وعدہ کیا۔