قوانین 2017ء کی منظوری: فوری انتخابات نہیں کرائے جاسکتے: سیکرٹری الیکشن کمشن

قوانین 2017ء کی منظوری: فوری انتخابات نہیں کرائے جاسکتے: سیکرٹری الیکشن کمشن

اسلام آباد+لاہور(خصوصی نمائندہ+خبر نگار) الیکشن کمیشن نے انتخابی رولز 2017ء کی منظوری دیدی۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی صدارت میں کمیشن کا اہم اجلاس ہوا۔ انتخابی رولز الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت تشکیل دیئے گئے ہیں۔افسروں نے 200 اجلاسوں میں رولز کو حتمی شکل دی۔ چیف الیکشن کمشنر نے انتخابی رولز 2017ء پر افسروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ تمام فریقین ان رولز کو سراہیں گے۔ انہوں نے رولز پر اطمینان کا اظہار کیا، ان انتخابی رولز کو الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا۔ انتخابی رولز کے متعلق تجاویز یا اعتراضات 15 روز میں جمع کرائے جا سکیں گے۔ الیکشن کمیشن ان اعتراضات یا تجاویز کو زیر سماعت لا کر فیصلہ کرے گا۔ الیکشن ایکٹ 2017ء میں 8 قوانین کو یکجا کیا گیا تھا۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 239 کے تحت الیکشن کمشن کو رولز بنانے کا اختیار دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد نے کہا کہ نئے انتخابی قانون کے مطابق الیکشن کمیشن ملک میں فوری انتخابات کا متحمل نہیں ہو سکتا ، الیکشن ایکٹ2017 کے تحت واٹر مارک بیلٹ پیپرز کی درآمد سمیت بہت سارے امور کے لئے جو قوانین بنائے گئے ان پر عملدرآمد کے لئے وقت درکار ہوگا، کاغذات نامزدگی فارم کو الیکشن ایکٹ کے تحت قانون کا حصہ بنانے کی الیکشن کمیشن نے مخالفت کی ، الیکشن کمیشن نے پارلیمانی کمیٹی کو تحریری درخواست کی انتخابی فارمز کو ایکٹ میں نہ لے کر جائیں فارمز الیکشن رولز کا حصہ رہنے دیے جائیں یہ اعتراض ریکارڈ کا حصہ ہے ، عام انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے ، بائیو میٹرک اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال تجرباتی بنیادوں پر کیاجائے گا ، آئندہ عام انتخابات میں بھی ان دو مشینوں کا استعال تجرباتی ہی رہے گا،ٹیکنالوجی کے استعمال کے حق میں ہیں لیکن جلد بازی میں ایسا کچھ نہیں کریں گے جس سے خون خرابہ ہو، ٹیکنالوجی کے استعمال میں شرح خواندگی میں کمی بھی ایک مسئلہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 4پشاور میں تجرباتی بنیادوں پراستعمال کے فیصلے پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے سو فیصد نتائج سامنے آئے تو اس کی رپورٹ پارلیمنٹ کو پیش کریں گے پارلیمنٹ نے ان مشینوں کے استعمال کو قانونی تحفظ دینے کا قانون منظور کرنا ہے ۔گزشتہ عام انتخابات میں مقناطیسی سیاہی کے اعلان کو جس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اس طرح کا کوئی اعلان اور دعووں سے گریز کریں گے۔انہوں نے کہاکہ بائیو میٹرک مشینوں کے لاہور کے ضمنی انتخابات میں نتائج سو فیصد نہیں تھے 12فیصد ووٹر کی شناخت کا مسئلہ ہے اس کے لئے نادرا کو لکھا ہے بتایا جائے کہ ملک میں کل اتنے ووٹر ہیںجن کی شناخت کا مسئلہ ہے ۔ حکومت کو تحریری کہا ہے کہ مردم شماری کی عبوری رپورٹ کو پبلک کیا جائے اس کا مثبت جواب جلد ملنے کی توقع ہے ، کاغذات نامزدگی فارم میں ختم نبوت حلف نامے کو نکالنے سے ملک میں شدید ردعمل اور حلف نامے کو بحال کرنے کے فیصلے سے متعلق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے پارلیمانی کمیٹی کو درخواست کی تھی کہ الیکشن سے متعلق تمام فارمز کو الیکشن کمیشن کے رولز کا حصہ رہنے دیا جائے اور فارمز کو الیکشن ایکٹ کا حصہ بنایا جائے لیکن پارلیمنٹ نے ان فارمز کو الیکشن ایکٹ کا حصہ بنا دیا جو تبدیلی ہوئی تھی وہ دور کر لی گئی ہے۔سیکرٹری الیکشن کمشن بابر یعقوب فتح محمد نے گذشتہ روز چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریزکو پولنگ اسٹیشنز میں استعمال میں لائی جانے والی عمارات کی حالت بہتر بنانے کیلئے ڈی۔ او لیٹرز لکھے ہیں جن میں آئندہ ہونیوالے عام انتخابات 2018ء کے حوالے سے پولنگ اسٹیشنز کے لئے استعمال کی جانے والی عمارات کی حا لت بہتر بنانے کے لئے ضروری اقدامات کی نشاندہی کی ہے۔