نوازشریف‘ بیٹی اور داماد کی آج فرد جرم کیلئے پیشی‘ والد نہیں آئینگے: حسن

اسلام آباد+لندن (این این آئی+عارف چودھری + صباح نیوز+مانیٹرنگ نیوز)سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن )کے صدر نواز شریف، انکی بیٹی مریم نواز، داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت (آج)جمعہ کو ہوگی۔ سابق وزیراعظم کے عدالت میں پیش نہ ہونے کا امکان۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن، حسین ، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نیب ریفرنس کا سامنا کرنے کے لئے 2 مرتبہ 26ستمبر اور 2اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے تھے۔سابق وزیراعظم اپنی اہلیہ بیگم کلثوم کی عیادت کیلئے لندن میں موجود ہیں۔ انہیں احتساب عدالت نے طلب کر رکھا ہے تاہم وہ عدالت میں پیشی کیلئے نہیں جائیں گے۔ سابق وزیراعظم کے صاحبزادے حسن نواز نے بتایا نواز شریف کا پاکستان جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ واضح رہے کہ بیگم کلثوم نواز کی کیموتھراپی جاری ہے جنکی عیادت کیلئے وہ لندن میں موجود ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی فرد جرم عائد کرنے کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔ تفصیلات کے مطابق کیپٹن (ر) صفدر نے فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ سے ایک روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو انہوں نے اپنے وکیل امجد پرویز کے ذریعے دائر کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا احتساب عدالت کو 13 اکتوبر کو فرد جرم عائد کرنے سے روکا جائے۔ قانون کے مطابق فرد جرم کیلئے 7 دن کا وقت دیا جاتا ہے۔ احتساب عدالت نے صرف 4 دن بعد فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کی۔ احتساب عدالت کے حکم نامے کو معطل کیا جائے۔ 7 دن سے پہلے فرد جرم عائد آرٹیکل 265 سی کی خلاف ورزی ہے۔ ادھر حسن اور حسین نواز کو نیب ریفرنسز میں مفرور ملزم قرار دیدیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیدیا گیا۔ دونوں ملزمان کے عدالت میں بذریعہ نوٹس طلبی پر عملدرآمد کیا گیا۔ عدالتی حکم پر نوٹس احتساب عدالت کے نوٹس بورڈ پر چسپاں کر دیا گیا ہے۔ ادھر نیب ریفرنسز میں حسن نواز اور حسین نواز کو مفرور قرار دیدیا گیا۔عدالتی حکم پر اشتہار اسلام آباد کی احتساب عدالت کے نوٹس بورڈ پر چسپاں کر دئیے گئے۔ نیب ریفرنسز میں عدم پیشی پر حسن اور حسین نواز کو مفرور ملزم قرار دیدیا گیا۔ تینوں ریفرنسز میں عدالتی حکم پر اسلام آباد کی احتساب عدالت کے نوٹس بورڈ پر دونوں ملزمان کے اشتہار چسپاں کر دئیے گئے ہیں جس میں دونوں کو مفرور ملزم قرار دیا گیا ہے۔ اشتہار کے متن میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملزمان نیب ریفرنسز میں مفرور ہیں اور دونوں کو 30 دن کے اندر عدالت میں پیش ہونا ہے۔ اگر حسین نواز اور حسن نواز 30 دنوں میں عدالت میں پیش نہ ہوئے تو انہیں اشتہاری ملزم قرار دیا جائے گا۔ اشتہار میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ملزمان کے ایک ماہ میں پیش نہ ہونے کی صورت میں ان کی جائیداد ضبطگی کی کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔
اسلام آباد (نامہ نگار)اسلام آباد کی احتساب عدالت میں وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں قومی احتساب بیورو (نیب)کی جانب سے دائر ریفرنس میں چوتھی مرتبہ پیش ہوگئے، جہاں استغاثہ کے مزید 2گواہان کا بیان ریکارڈ کیا گیا، استغاثہ کے گواہ نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی اہلیہ اور کمپنیوں کے 5 بینک اکائونٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کردیں جبکہ وزیرخزانہ کے وکیل نے عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات پر اعتراضات اٹھادیئے ہیں ۔ 8گھنٹے طویل سماعت کے دوران دو گواہان کے بیان قلمبند کرنے کے بعد ان پر جرح مکمل کرلی گئی ہے، تاہم ایک گواہ سے ای میل کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے جس پربحث ای میل کا ریکارڈ آنے کے بعد ہوگی، عدالت نے مقدمہ کے چوتھے گواہ کو16اکتوبرکے روز طلب کرلیا ہے ۔ جمعرات کو احتساب عدالت اسلام آبادکے جج محمد بشیر نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے حوالے سے نیب ریفرنس کی سماعت کی اس دوران ملزم ،اسحاق ڈاراور استغاثہ کے دونوںگواہان نجی بینک کے افسرطارق جاوید اور نیشنل انوسٹمنٹ ٹرسٹ کے افسر شاہدعزیزکمرہ عدالت میں موجودتھے ۔ اسحاق ڈار کے خلاف سب سے زائد اثاثے بنانے کے الزام پرمبنی ریفرنس کی سماعت شروع ہوئی تو پہلے استغاثہ کے گواہ طارق جاوید کا بیان قلمبند کیا گیا گواہ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ البرکہ بنک سے 1999سے وابستہ ہوں اورنیب نے میرے بنک کے ذریعے مجھے بلایا نیب کا خط برانچ میں موصول ہوا اور مجھے کہا گیا کہ اسحاق ڈار کی تصدیق شدہ بنک تفصیلات نیب کو فراہم کریںجب نیب نے ریکارڈ کے لئے کیا کہا تو اس وقت البرکہ بنک کاسینئر وائس پریذیڈنٹ(ایس وی پی)تھا۔ ریکارڈ کولے کر 17اگست کو نیب آفس لاہور پہنچاتوبنک کی طرف سے کہا گیا کہ اسحاق ڈار کے خلاف کہ نیب کے سامنے پیش ہوں،نیب لاہور کو تبسم ڈار کے اکاونٹ کی تفصیلات فراہم کیں اورتبسم ڈار کے اکاونٹ اوپن کروانے سے متعلق فارم نیب کے حوالے کیا۔اس دوران گواہ طارق جاوید نے بنک اکائونٹ کی تفصیلات عدالت کوبھی فراہم کردیں۔ فاضل جج محمد بشیرکا کہنا تھا کہ بے نامی دار کو نوٹس ہونا چاہیئے تاکہ بے نامی دار کو علم تو ہو کہ اس کی جائیداد زیر بحث ہے جس پر خواجہ حارث نے کہاکہ ایسی کوئی بے نامی جائیداد نہیں ہے اگر اس حوالے شواہد ملیں تو پھر بلا لیں۔ خواجہ حارث نے نیب کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہاکہ ریفرنس میں شامل بعض دستاویزات نہیں مل رہیں اب آپ دستاویزات ڈھونڈیں گے تو وہ ملیں گے نہیں۔جس پر فاضل جج کا کہناتھا کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں کیونکہ فارم اتنی متنازعہ چیز نہیں ہے، اس دوران نیب کے وکیل نے کہاکہ ھم فارم کو ڈھونڈ لیں گے۔ جس پر خواجہ حارث نے کہاکہ یہ تو بہت متنازعہ ہے وہ ان کے ہاتھ میں ہیں اور جرم ان کو ثابت کرنا ہے۔اس دوران دستاویزات مکمل نہ ہونے پر نیب وکیل نے سماعت میں پندرہ منٹ کا وقفہ کرنے کی استدعاکرتے ہوئے کہاکہ دستاویز میں ایک صفحہ مسنگ ہے وہ نئی درخواست کے ساتھ جمع کرادینگے ۔خواجہ حارث نے کہاکہ قانون کے مطابق ایک دستاویز آنے کے بعد اضافی دستاویز نہیں آسکتے۔ فاضل جج کا کہنا تھا کہ نئی درخواست کے ساتھ مسنگ دستاویز شامل کی جائیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ جناب 2006سے اس بنک اکائونٹ میں کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی۔گواہ طار ق جاوید کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2000کے بنک اکائونٹ کی سٹیٹمنٹ شروع ہوئی ۔نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق کا کہنا تھا کہ گواہ کی شہادت کو ابتدائی شہادت کے طور پر لیا جائے اور اس ثبوت کو پرائمری ثبوت کے طور پر عدالت قبول کرے۔ خواجہ حارث نے کہاکہ الیکٹرانک سٹیٹمنٹ کو بطور پرائمری ثبوت نہیں لیا جاسکتا۔ عمران شفیق نے کہاکہ یہ عدالت کا کام ہے کہ وہ شہادت کو بنیادی شہادت تسلیم کرے۔ جس پر خواجہ حارث نے کہاکہ ہمارے اعتراضات کو ریکارڈ کا حصہ بنایاجائے ۔ گواہ کا مزید کہنا تھا کہ بنک سٹیٹمنٹ صفحہ 35سے 39تک فوٹو کاپی پر مشتمل ہے۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ وکیل صفائی کا اعتراض درست نہیں ۔ جس پر فاضل جج نے آبزرویشن دی کہ تصدیق شدہ کاپی منگوانے کا حکم دے دیتے ہیں۔اسحاق ڈار کے وکیل نے گواہ کے ریکارڈ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہاکہ دیکھنا ہے کہ تصدیق شدہ کاپی کا ثبوت موجود ہے کہ نہیں اور اس ضمن میں الیکٹرانک ٹرانزیکشن ایکٹ 2000کی شق 12کا حوالہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے ہم نے عدالت عظمی میں بھی کہاتھا اس طرح کیس دو دن میں ختم ہو سکتا ہے اس ریکارڈ پر عدالت کیس چلانا چاہے تو چلالیں۔ گواہ کا کہنا تھا کہ بنک کے حکم پر نیب لاھور میں تفتیشی افسر کو اکائونٹ کی تصدیق شدہ کاپیاں فراہم کیں اور ہجویری مضاربہ کے اکائونٹس عبدالرشید ، نعیم محبوب اور ندیم بیگ آپریٹ کررہے تھے اس ضمن میں بھی نیب کو بنک اکائونٹس کی تفصیلات فراھم کیںگواہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہجویری ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے بنک اکائونٹس کی تفصیلات بھی نیب کو فراھم کیں۔اس دوران گواہ طارق جاوید نے تیسرے بنک اکائونٹ کی تفصیل بھی عدالت میں پیش کرتے ہوے کہاکہ تیسرا بنک اکائونٹ ہجویری ہولڈنگ پرائیویٹ کے نام پر کھولا گیا۔ گواہ کا کہنا تھا کہ پہلا اکائونٹ تبسم اسحاق ڈار، دوسرا ہجویری مضاربہ اور تیسراہجویری ہولڈنگ پرائیویٹ کے نام پر کھولا گیا۔اس دوران خواجہ حارث نے کہاکہ عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات گواہ نے تیار کیں اور نہ اس کی تحویل میں تھیں ۔ اس دوران گواہ کی جانب سے بنک اکائونٹ کھلوانے کا فارم عدالت میں پیش کر دیا گیا اوربنک ٹرانزیکشن کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کی گئیں۔ گواہ نے بنک کورنگ لیٹر بھی عدالت میں پیش کر دیاتو خواجہ حارث نے کہاکہ انہیں گواہ کی دستاویز پر اعتراض ہے کیونکہ تصدیق شدہ دستاویزات فراہم نہیں کی گئیںیہ دستاویزات تو کوئی بھی تیار کر سکتا ہے۔ جس پر فاضل جج نے کہاکہ ایسی بات نہیں ۔ یہ بنک کے دستاویزات ہیں۔اس دوران گواہ طارق جاوید کاکہنا تھا کہ انہوں نے یہ تفصیلات 23اگست 2017کو نیب تفتیشی افسر کو فراہم کیں، کمپنی کے ڈائریکٹر کی فہرست اور میمورنڈم بھی جمع کرایا، گواہ کی جانب سے چوتھے بنک اکاونٹ ہجویری مضاربہ مینجمنٹ کی تفصیل بھی عدالت میں پیش کی گئی اورکمپنی کے بنک اکاونٹ کے ساتھ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کی تفصیل بھی عدالت میں پیش کی گئی جس کے ساتھ 23جون 2001سے دو اپریل 2012تک کی بنک اسٹیٹمنٹ بھی منسلک تھیں ۔