پی اے سی کا اجلاس، ایف بی آر حکام 3 ارب سے زائد کی بے قاعدگیوں کرپشن کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی پبلک اکاﺅنٹس کی سب کمیٹی میں ایف بی آر کے حکام 3 ارب روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں اور کرپشن کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے،کرپشن اور بے قاعدگیوں میں ملوث اکثر اہلکار ریٹائرڈ ہو چکے ہیں ان سے پوچھنا ناممکن ہے۔ ایف بی آر حکام مناسب تیاری کر کے آئیں تمام معاملات کو دوبارہ ڈیپارٹمنٹل آڈٹ میں لے جان مذاق ہے قومی اسمبلی پبلک اکاﺅنٹس کی سب کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایف بی آر ان لینڈ ریونیو میں 1996-97سے بے قاعدگیوں کرپشن اور محصولات کی عدم وصولی پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اس موقع پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے حکام نے کہا محصولات کی وصولیوں میں ناکامی اور بڑے پیمانے میں بے قاعدگیوں کے بارے میں ایف بی آر حکام ابھی تک وضاحت نہیں کر سکے۔مزید برآں قومی اسمبلی پبلک اکاﺅنٹس کی سب کمیٹی کے اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور ایف بی آر کے حکام ایک دوسرے سے نظریں ملانے سے گریز کرتے رہے۔گذشتہ اجلاسوں کے دوران دونوں اداروں کے افسران کے مابین تلخ کلامی کی وجہ سے ماحول زیادہ تر خوشگوار نہ رہا، آڈٹ کے افسران ایف بی آر حکام سے باز پرس کرنے کی بجائے آپس میں ہی تبادلہ خیالات کرتے رہے۔