موسم گرما: شہروں میں 6 دیہات میں 8 کھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے: وزیر اعظم

موسم گرما: شہروں میں 6 دیہات میں 8 کھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے: وزیر اعظم

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ نمائندہ خصوصی+ ایجنسیاں) وزیراعظم نواز شریف نے جامشورو میں 660 میگاواٹ کے دو الگ الگ بجلی گھروں کی تعمیر 2018ء تک ہر صورت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے گیارہویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ جامشورو میں 1320 میگا واٹ کے بجلی منصوبے جلد از جلد مکمل کرنے کے لئے کوششیں تیز کی جائیں تاکہ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جا سکے۔ اس موقع پر کمیٹی نے کوئلے سے 3600 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعظم کو بتایا کہ اس منصوبے کے لئے اخراجات عوامی شعبے کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے ذریعے فراہم کئے جائینگے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کو فروری 2017ء تک مکمل کیا جائے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ آئندہ موسم گرما تک نیشنل گرڈ میں 1500 میگاواٹ سے زائد اضافی بجلی دستیاب ہوگی جو گڈو، نندی پور سمیت ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سے حاصل کی جائے گی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بجلی کی بچت اور چوری روکنے کے لئے مزید ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے۔ اجلاس میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے علاوہ دیگر وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نواز شریف سے افغان وزیر برائے مہاجرین سید حسین بلخی نے ملاقات کی جس میں پاکستان افغانستان تعلقات، افغان مہاجرین کی واپسی سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر سرحدی و ریاستی امور عبدالقادر بلوچ، وزیراعظم کے مشیر طارق فاطمی بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر ملک ہے، دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہیں۔ ان تعلقات میں مزید بہتری کے خواہاں ہیں۔ پاکستان اور افغانستان مل کر خطے میں امن وامان اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مل کر کام کرتے رہیں گے۔ قانونی مہاجرین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی بلکہ ان مہاجرین کو باوقار طریقے سے واپس افغانستان بھیجیں گے۔ افغانستان سمیت خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مستحکم اور تعاون پر مبنی تعلقات استوار کرنا ان کے پرامن پڑوس کے ویژن کا حصہ ہے۔ افغانستان میں قیادت کی تبدیلی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات سے تاریخی باب کا آغاز ہوا ہے۔ دونوں ممالک نے ماضی کو فراموش کر کے باہمی مفاد پر مبنی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ہماری توجہ کا مرکز زیادہ سے زیادہ سیاسی مذاکرات، سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی میں تعاون، معاشی شراکت اور علاقائی تعاون شامل ہیں۔ دہشت گردی دونوں ممالک کی مشترکہ دشمن ہے، اسے شکست دینے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے دونوں ممالک نے دہشت گردی کے ہاتھوں شدید نقصانات اٹھائے ہیں۔ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب شروع کر کے دہشت گردی کے نیٹ ورک کی کمر توڑی ہے، ہمارا عزم ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دینگے۔ پاکستان افغان مہاجرین کی وطن واپسی کیلئے حکمت عملی کی توثیق کرتا ہے۔ پاکستان رضاکارانہ واپسی کے اصول کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے کیلئے کابل کا دورہ کرینگے۔ افغان وزیر حسین علیم یبلخی نے افغانستان میں برفانی طوفان کے نقصانات پر حکومت پاکستان کے اظہار تشویش کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی مدد کی تعریف کی۔ انہوں نے افغان صدر کی طرف سے وزیراعظم کو نیک تمنائوں کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ افغانستان میں بین الوزارتی بورڈ بنایا گیا ہے جو افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے معاملات کی نگرانی کرتا ہے۔ صدر اشرف غنی بورڈ کی خود صدارت کرتے ہیں۔ دریں اثناء سردار اختر مینگل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی کو ترجیح دیتی ہے، ان کی خواہش ہے کہ تمام فیصلے صوبائی پارٹیوں کے تعاون اور مشاورت سے ہوں، حکومت انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ذریعے ملک کے تمام حصوں میں بسنے والوں کو زندگی گزارنے کے مواقع دینا چاہتی ہے۔ بلوچستان جمہوری وفاقی نظام کا اہم حصہ ہے۔نواز شریف نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف بھاری قیمت ادا کی ہے۔ دہشت گرد دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن ہیں، پاکستان اور افغانستان انہیں مل کر شکست دینگے۔