بکتر بند گاڑیوں کی خریداری ، سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کا معاہدہ کالعدم قرار دیدیا

بکتر بند گاڑیوں کی خریداری ، سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کا معاہدہ کالعدم قرار دیدیا

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + آن لائن + نوائے وقت نیوز) سپریم کورٹ نے سربیا سے بکتر بند گاڑیوں‘ ہیلی کاپٹر اور 86 فائر بریگیڈ گاڑیوں کی خریداری کے لئے ایک ارب تیئس کروڑ روپے کا سندھ حکومت کا معاہدہ کالعدم قرار دے دیا۔ آئی جی اور سندھ حکومت سے 26 مارچ کو وضاحت طلب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ آئی جی سندھ ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوں اور بتائیں کہ انہوں نے مجاز اتھارٹی کے بغیر یہ معاہدہ کیسے کیا اور عرفان قادر کو کس نے وکیل مقرر کیا اور وہ گیارہ پیشیوں پر بغیر وکالت نامے کے کیسے پیش ہوئے؟ عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ آئی جی سندھ اتنا بڑا معاہدہ کرنے کے مجاز نہیں۔ مجاز اتھارٹی متعلقہ سیکرٹری یا گورنر ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ آئین اور قانون کی پیروی ہم سب کا مشترکہ مقصد ہے کسی کو بھی خلاف آئین و قانون کام کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔ ایک ارب تئیس کروڑ روپے کا غیر قانونی معاہدہ کیا گیا۔ سندھ پولیس کسی دوسرے ملک سے یہ کیسے معاہدہ کر سکتی ہے؟ جسٹس اعجاز چوہدری نے کہا کہ بغیر کسی وکالت نامے کے عرفان قادر پیش ہوتے رہے جو خلاف قانون بات ہے۔ آئی جی سندھ نے عرفان قادر کو کیسے وکیل مقرر کیا ہے کہ اس کے پاس کسی قسم کا وکالت نامہ ہی نہیں ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ عدالت معاہدے کو کینسل کر دے یا پھر ہم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ہم نے کوئی کام غیر قانونی طور پر کیا اور نہ ہی اس بارے کچھ سوچا جا سکتا ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ایک ارب تئیس کروڑ روپے کوئی چھوٹی رقم نہیں یہ عوام کی جیبوں سے نکالا گیا پیسہ ہے جس کو اس طرح سے بغیر قانون کے خرچ کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔ سندھ حکومت ہیلی کاپٹر اور 86 فائیر ٹینڈر بھی نہیں خرید سکتی۔ کمال حیرت ہے کہ ایک چیز اپنے ملک میں موجود ہے اپنے ادارے بنا رہے ہیں کم نرخوں کے باوجود وہ نہیں خریدا گیا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سندھ حکومت نے معاہدے کی اجازت دی تھی تاہم پھر بھی عدالت سمجھتی ہے کہ یہ معاہدہ شفاف نہیں تو اس کو کینسل کر دے اگر معاہدہ کینسل کیا گیا تو اس سے بیرونی دنیا کی کمپنیاں ہمارے ملک کے ساتھ معاہدے نہیں کرینگی اور ان کا اعتبار ختم ہو جائے گا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بیرونی دنیا کا اعتماد ختم نہیں ہونا چاہئے چاہے ملک کے عوام کی قیمتی دولت کو اونے پونے داموں خرچ کر دیا جائے۔ عدالت نے کیس کا فیصلہ آنے تک سندھ حکومت کو رقم کی ادائیگی نہ کرنے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت خود اس معاملہ کو ٹھیک کرے ورنہ عدالت اپنا حکم جاری کرے گی۔ جسٹس جواد نے کہاکہ ہم آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرتے رہیں گے اور کسی کو قومی خزانہ کی رقم کا ایک ٹکا ادھر ادھر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔