قومی اسمبلی، سینٹ میں بحث جاری: اشرافیہ کا بجٹ ہے، اپوزیشن : معیشت اپنے پائوں پر کھڑی کر دی: حکومتی ارکان

قومی اسمبلی، سینٹ میں بحث جاری: اشرافیہ کا بجٹ ہے، اپوزیشن : معیشت اپنے پائوں پر کھڑی کر دی: حکومتی ارکان

اسلام آباد ( نوائے وقت نیوز/ خبر نگار خصوصی/ ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں مالی سال 2015-16ء کے بجٹ پر بحث جاری رہی جس میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو، مسلم لیگی ارکان رانا محمد حیات خان، چودھری جعفر اقبال سمیت الحاج شاہ جی گل خان آفریدی، شہاب الدین، عبدالوسیم، امجد علی خان، چوھدری حامد حمید ، اصغر علی شاہ، پیر اسلم بودلہ، پیپلز پارٹی کے غلام رسول گوریجہ، پی ٹی آئی کے مراد سعید اور اقلیتی رکن طارق سی چودھری سمیت دیگر ارکان نے حصہ لیا۔ اپوزیشن ارکان نے قومی اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پینشنوں میں 20سے 25فیصد کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ حکومتی بنچوں کے ارکان نے حکومت کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں قومی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے اقدامات سمیت ترقیاتی منصوبوں کیلئے خاطر خواہ بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ حکومتی ارکان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو تباہ حال معیشت ورثے میں ملی تھی لیکن درست معاشی پالیسیوں اور اقتصادی اصلاحات کے نتیجے میں حکومت نے 2سال کے اندر زوال پذیر معیشت کو نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا بلکہ اسے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا ہے، اپوزیشن ارکان نے بجٹ کو عام آدمی کی بجائے اشرفیہ کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری اور صنعتی طبقے کو فائدہ پہنچایا گیا جبکہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والے زراعت کے شعبے کو نظرانداز کر دیا گیا، بلوچستان اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے اور قربانیاں پیش کرنے والے صوبوں کی تباہ حال معیشت کو بحال کرنے کیلئے کوئی پیکج نہیں دیا گیا، فاٹا کو صوبہ کا درجہ دیا جائے اور وہاں کونسل کی جگہ قانون ساز اسمبلی بنائی جائے تا کہ وہاں کے عوام اپنے فیصلے خود کر سکیں، گورنر خیبر پی کے کو وائسرائے جیسے اختیارات دے کر فاٹا کا ایگزیکٹو بنانا قبول نہیں۔ نماز جمعہ اور دوپہر کے کھانے کے بعد بجٹ پر جاری عام بحث میں فاٹا رکن شاہ جی گل آفریدی، شہاب الدین ،پی ٹی آئی کے مراد سعید، مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی رکن طارق سی چوہدری، میر محمد اسلم بودلہ، شاہنواز رانجھا، پیپلز پارٹی کے غلام رسول کوریجہ، ایم کیو ایم ثمن سلطانہ جعفری اور جماعت اسلامی کی عائشہ سید نے حصہ لیا۔ فاٹا رکن شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ فاٹا میں لیوی اور خاصہ دار فورس کے جوان پاک افواج کے شانہ بشانہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، ان کی تنخواہیں اسلام آباد پولیس کے برابر کی جائیں، بھارت دھمکیاں نہ دے، ہم نے جو حشر روس اور امریکہ جیسی دوپر پاورز کا کیا وہی حشر بھارت کا کریں گے۔ فاٹا رکن شہاب الدین نے کہا کہ اس بجٹ میں فاٹا کو نظر انداز کیا گیا ہے، فاٹا کا بجٹ بنانے میں وہاں کے ارکان پارلیمنٹ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، فاٹا کے ترقیاتی بجٹ میں گزشتہ سال کی نسبت کمی کی گئی ہے، فاٹا کو گزشتہ تین سال میں ایک نیا پرائمری سکول نہیں دیا گیا، فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جائے، فاٹا کونسل قابل قبول نہیں، نمائندگی دینی ہے تو فاٹا اسمبلی بنائی جائے، فاٹا میں سیاسی نظام بحال کیا جائے، فاٹا کے فنڈز اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔ پی ٹی آئی کے مراد سعید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے تعلیم کا بجٹ 2فیصد اور تعلیم کا بجٹ 4فیصد کرنے کا اعلان منشور میں کیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا، وزیراعظم ہائوس کے اخراجات میں 8فیصد اضافہ کیا گیا۔ اقلیتی رکن طارق چودھری نے کہا کہ ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، نواز شریف کی قیادت نے دوبارہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے، اقلیتی ارکان کے انتخاب کیلئے براہ راست انتخابات کا طریقہ بحال کیا جائے، آئینی اصلاحاتی کمیٹی میں اقلیتی رکن شامل کیا جائے، تمام سرکاری رہائشی سکیموں میں اقلیتوں کیلئے پانچ فیصد کوٹہ مختص کیا جائے۔ پی پی پی کے غلام رسول کوریجہ نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20فیصد اضافہ کیا جائے، دھاگے کی درآمد اور برآمد پر لگائی گئی ڈیوٹی سے شعبے کو شدید نقصان ہو گا، بھارت نے کوئی مہم جوئی کی تو بھارتیوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر ماریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے پیر محمد اسلم بودلہ نے کہا کہ بجٹ میں زراعت پیشہ افراد کو نظرانداز کیا گیا، کاروباری لوگوں کی طرح زراعت کے شعبے کو بھی ریلیف دیا جائے، پاسکو گندم کی حالیہ خریداری میں ناکام رہی، حکومت پاسکو حکام کے خلاف نوٹس لے کر کارروائی کرے۔ ایم کیو ایم کی ثمن سلطانہ جعفری نے کہا کہ اقوام متحدہ کو بھارتی وزیراعظم مودی کے بیان کا نوٹس لینا چاہئے، کراچی کیلئے گرین لائن بس سروس ایک لولی پاپ ہے، کراچی کو پینے کے صاف پانی اور صحت کی سہولتوں کی ضرورت ہے، اقتصادی راہداری منصوبے میں کراچی کو بھی حصہ دیا جائے۔ عیسٰی نوری نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے رقبے کا 40 فیصد ہے لیکن اس کیلئے صرف 40ارب کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے شاہنواز رانجھا نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں تین لاکھ نئے ٹیکس دہندہ نیٹ میں لائے گئے ہیں، جی ڈی پی کی شرح 4.4فیصد پر لائی گئی ہے، سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں 70فیصد اضافہ ہوا، 10ہزار نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن، معاشی ترقی کی نشاندہی ہے، عالمی ادارے معاشی ترقی کو سراہتے ہیں، زراعت کی وزارت کو وفاق میں بحال کیا جائے، اس وزارت کے صوبوں میں چلے جانے سے یہ شعبہ یتیم ہو گیا ہے، سرگودھا میں ڈرائی پورٹ بنایا جائے تا کہ کینو اور مالٹے کی فصل کی برآمد میں اضافہ ہو۔ ایم کیو ایم کے محبوب عالم نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20فیصد اضافہ کیا جائے، کم از کم اجرت 20ہزار روپے مقرر کی جائے، کراچی میں واٹر سپلائی کیلئے وفاق فنڈز فراہم کرے۔ جماعت اسلامی کی عائشہ سید نے کہا کہ بجٹ میں غریب آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کا کوئی اقدام نہیں، براہ راست ٹیکس کی شرح 30فیصد جبکہ بالواسطہ ٹیکس 70فیصد ہے جس سے ٹیکسوں کا سارا بوجھ عوام پر لاد دیا گیا ہے، یہ اشرافیہ کا ٹیکس ہے، تعلیم کے بجٹ میں 6ارب کم کر کے اسے 22ارب کر دیا گیا، صحت کے بجٹ میں 8ارب کی کمی سے اسے 20 ارب کر دیا گیا ہے، سود کی ادائیگیاں ہمارے دفاعی بجٹ سے زیادہ ہیں، سودی معیشت ختم کر کے اسلامی بنکاری کو رائج کیا جائے، نیکٹا کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں۔ پی ٹی آئی کے ساجد نواز نے کہا کہ بجٹ الفاظ کا ہیر پھیر ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کر کے موٹر ویز بنائی جا رہی ہیں، اٹھارہویں ترمیم نے سارے ملکی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ عائشہ سید کی تقریر ختم ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس پیر کی شام4 بجے تک ملتوی کر دیا۔ جے یو آئی(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت ارکان اسمبلی کی تجاویز کو تسلیم کرتے ہوئے متفقہ بجٹ دے، ملک کی ترقی کیلئے ملکی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے انہیں استعمال میں لانا ہو گا۔ کشمیری مہاجرین کے گزارہ الاؤنس میں 200 فیصد تک اضافہ کیا جائے۔ حکومتی ر کن چودھری جعفر اقبال نے کہا کہ اپوزیشن کو چاہئے بجٹ کی بہتری کیلئے مؤثر تجاویز دے۔ صرف تنقید برا ئے تنقید کی جا رہی ہے۔ تحریک ا نصاف کے رکن امجد علی خان نے کہا کہ بجٹ کے بعد منی بجٹ نہیں آنا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کو داخلی اور خارجی مسائل کا سامنا ہے، امن کے بغیر معاشی ترقی کا کوئی تصور نہیں، خیبر پی کے آگ میں جل رہا ہے، بلوچستان میں لوگوں نے ہتھیار اٹھا لئے، امریکہ اور مغربی دنیا کو پاکستان کی ترقی برداشت نہیں، بھارتی حکومت کے پاکستان مخالف جارحانہ رویئے کا سختی سے نوٹس لینا ہوگا، پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے بھارت پاکستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے، تنازعہ کشمیر کی وجہ سے ہم غیر محفوظ ہیں، حکومت کو مختاط رویہ اختیار کرنا ہو گا۔ تنازع کشمیر کی وجہ سے ہم غیر محفوظ ہیں، کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق ملنا چاہئے، میانمار کے مسلمانوں کیلئے حکومت کو سفارتی کوششیں تیز کرنی چاہیئں، سودی نظام معیشت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے، بھارت کے پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ کا ہمیں سختی سے نوٹس لینا ہوگا، بھارتی قیادت نے پاکستان توڑنے کے حوالے سے جس فخر کا اظہار کیا۔ پاکستان توڑنے کے حوالے سے بنگلہ دیش میں جو ایوارڈ دیے اس سے گرمی آئی ہے۔ ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان بدامنی کا شکار ہوا، امریکہ امن کیلئے نہیں ایک ایجنڈے کے تحت ساری دنیا کے ممالک کو جکڑنا چاہتا ہے۔ کوئی عقلمند آدمی یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ امریکہ افغانستان میں اسامہ کو تلاش کرنے آیا۔ حکومت سے اقتصادی راہداری منصوبہ پر اتفاق رائے پیدا کر کے انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ امریکہ نے ہمیں تباہی سے دوچار کیا جبکہ چین نے ہمیں خوشحالی دی۔ مدارس دہشتگردی کے مراکز نہیں، دنیا کو یہ تاثر نہ دیا جائے۔
اسلام آباد (نامہ نگار) سینٹ میں بجٹ پر بحث کا سلسلہ جاری رہا، اپوزیشن اراکین نے بجٹ کو اعدادو شمار کا ہیر پھیر جبکہ حکومتی اراکین نے اسے عوام دوست قرار دیا، مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک غریبوں کی حالت نہیں بدلی، آئندہ نسلوں کو ایک خوشحال اور پر امن ملک دینے کے لئے کڑے احتساب کا عمل شروع کرنا ہو گا، اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، معاشی اہداف حقیقت پسندانہ ہونے چاہئیں، معاشی شرح نمو کے لئے محصولات کی وصولی میں اضافہ کرنا چاہئے، سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ حکومت رواں مالی سال کے اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی، اگلے مالی سال کے اہداف بھی غیر حقیقی ہیں، ملک کو بجلی، گیس اور دہشت گردی جیسے مسائل کا سامنا ہے، اس لئے معاشی اہداف بھی حقیقت پسندانہ ہونے چاہئیں، ملک کو مضبوط بنانے کے لئے اداروں کو مستحکم کرنا ہو گا، سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ معیشت کی بنیاد زراعت، مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبے ہیں، زراعت کا شعبہ زوال پذیر ہے اس کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے، اخراجات میں بھی قرضوں کا بہت زیادہ حصہ ہے۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنے دور میں تاریخی اقدامات کئے، اس وقت کے صدر نے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کئے اور خیبر پی کے کو نیا نام دیا، پیپلزپارٹی کو یہ طعنہ نہیں دینا چاہیے کہ وہ گلگت بلتستان اور کے پی کے میں ہار گئی، ہم نے وہ وقت بھی دیکھا جب محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی 17 نشستیں تھیں لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ بجٹ میں نئے ٹیکس کراچی میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کے لئے رقم نہیں رکھی گئی ہے۔ مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ اپوزیشن ارکان کو بجٹ کے لئے بہتر تجاویز دینی چاہئیں، تنقید برائے تنقید درست نہیں، حکومت کو اخراجات کم کرنے کے لئے کفایت شعاری اختیار کرنی چاہئے اگر ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پر انحصار کریں گے تو اچھا بجٹ نہیں بنا سکیں گے، سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ لوگوں کو رہائشی سہولیات فراہم کرنے کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں، ورنہ کچی آبادیاں بنتی رہیں گی، سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا گیا، تنخواہوں میں بہت کم اضافہ کیا گیا ہے، افراط زر میں کمی بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں کمی کی وجہ سے ہوئی ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو متنازعہ نہ بنایا جائے، مگر مغربی روٹ کے لئے رقم نہیں رکھی گئی۔ اسے غریب کا بجٹ کہا جا رہا ہے لیکن سیلز ٹیکس صارف ادا کرتا ہے۔، سنیٹر بیرسٹر جاوید عباسی نے کہا کہ حکومت نے متوازن بجٹ پیش کیا ہے، جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف5.5فیصد مقرر کیا گیا ہے، افراط زر کی شرح میں نمایاں کمی بھی حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، پی ایس ڈی پی کیلئے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سب سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے، کسٹمز ڈیوٹی میں بیس فیصد کمی کی گئی ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافہ کیا گیا ہے ان اقدامات کا فائدہ غریب عوام کو پہنچے گا۔ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے ایوان بالا( سینیٹ) کو بتایا ہے کہ اسلام آباد میں غیر قانونی کچی آبادیوں کے خاتمے کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے، ہائی کورٹ نے کچی آبادیوں کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے، کوئی نئی کچی آبادی قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، غیر قانونی آبادیوں کا خاتمہ کر کے رہیں گے، گزشتہ روز سینیٹ میں چوہدری تنویر خان کے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں اظہار خیال کرتے ہوئے میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ کچی آبادیوں کا مسئلہ واقعی بہت اہم ہے، چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں کوٹے سے متعلق قانون سازی کا عمل قومی اسمبلی میں زیر التواء ہے، کوٹے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے قانون سازی کو جلد مکمل کیا جانا چاہیے، سینیٹر سردار محمد اعظم خان موسیٰ خیل کی تحریک التواء پر ریمارکس دیتے ہوئے چیئرمین نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ ان سے تعلق رکھنے والے افسران اپنے صوبوں میں تعینات نہیں کئے جاتے اور وفاق سے نمائندگی ہوتی ہے۔ حکومت متعلقہ صوبوں اور بالخصوص بلوچستان میں کوٹے کے مطابق افسران کی تعیناتی کی جائے۔ کوٹے سے متعلق قانون سازی قومی اسمبلی میں زیر التواء ہے۔ سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج (جی آئی ڈی سی) کی مد میں پچھلی وصولی نہ کرنے سے متعلق سیکرٹری پٹرولیم نے باقاعدہ احکامات جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔