پاکستان بھارت مذاکرات کی اس بار ہئیت ہی تبدیل ہو جائے گی

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) اس امر کا قوی امکان ہے کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان 15 جولائی کو اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کے نام سے معروف مذاکراتی عمل کی ہیئت ہی تبدیل ہو جاے گی۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق اگرچہ جامع مذاکرات کی ہیئت بھی بنیادی طور بھارت ہی کی تجویز کردہ ہے جس میں کشمیر کے مسئلہ کو بنیادی نوعیت حاصل نہیں لیکن ایک دہائی سے جاری رہنے والے ان مذاکرات کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر اور اسی کے ساتھ جڑے امن و سلامتی کے موضوع کو بتدریج مرکزیت حاصل ہو گئی جس کی بدولت بھارت جامع مذاکرات کی اصطلاح سے ہی چڑ گیا ۔ دہلی اور ممبئی میں دہشت گردی کی وارداتوں نے اسے موقع دیا کہ وہ پاکستان پر پھر دباﺅ ڈال کر مذاکرات کے موضوعات اور بات چیت کا طریقہ کار تبدیل کرے ، کشمیر اور امن و سلامتی کے بجائے دہشت گردی کو بات چیت کا محور بنائے۔اسی دوران پاکستان کو بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے پے در پے ڈیموں کی تعمیر نے ہوشیار کر دیا لیکن انکشاف ہوا کہ معاہدہ سندھ طاس کے تحت ،بھارتی خلاف ورزیوں پر محض اتنی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر اپنے بھارتی ہم منصب کو خط لکھ کر پاکستان کے مﺅقف کے بارے میں آگاہ کریں یا بصورت دیگر پاکستان عالمی ثالث سے رجوع کرے۔ جہاں تک جامع مذاکرات کا تعلق ہے وہ آبی تنازعات کا احاطہ ہی نہیں کرتے، آٹھ نکاتی ایجنڈا میں مقبوضہ کشمیر میں نوتعمیر اس منصوبے کا ذکر ہے جسے بھارت تلبل پراجیکٹ کا نام دیتا ہے۔ پاکستان چاہے گا کہ بھارت کے ساتھ دو طرفہ مذاکراتی سلسلے میں آبی تنازعات کو بھی شامل کیا جائے۔دونوں ملکوں کی ضرورتیں جامع مذاکرات کی ہیئت میں تبدیلی کا سبب بنیں گی۔ ذرائع کے مطابق فی الحال پاکستان کیلئے یہ غنیمت ہے کہ بھارت کسی نہ کسی طرح مذاکرات کی میز پر آ گیا ہے۔ بھارت کی جانب سے دہشت گردی اور اس کے انسداد کیلئے ان کوششوں پر زور دیا جائے گا۔ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے مظالم اور سیاسی کارکنوں کی رہائی،سرکریک اور سیاچن کے تنازعات کے جلد حل پر زور دیا جائے گا۔یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ لائن آف کنٹرول پر اعتماد سازی کے مزید اقدامات کرنے پر اتفاق کے علاوہ پہلے سے طے شدہ اعتماد سازی کے اقدامات پر عمل درآمد کو مﺅثر بنانے کے بارے میں اعلان کیا جائے۔ بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ وہاں جاری گڑبڑ کے پیچھے کون ملوث ہے یہ معاملہ 15جولائی کو پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے ایجنڈا میں شا مل ہے ۔ کانگریسی رہنماءایم پی پرکاش کی 70سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے بعدصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایم کرشنا نے کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں پیداہونے والی موجوہ صورتحال کی تہہ میں جانا اورذمہ داروں کو بے نقاب کرنا چاہتاہے اور ان کے دور ہ پاکستان کے دوران مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال مذاکرات مرکزی نکتہ ہوگا۔