ہم نے مٹی پاﺅ پالیسی اپنانے کی بجائے مشرف کے منہ میں مٹی ڈال دی: راجہ ظفر الحق

ہم نے مٹی پاﺅ پالیسی اپنانے کی بجائے مشرف کے منہ میں مٹی ڈال دی: راجہ ظفر الحق

اسلام آباد (ثناءنیوز) مسلم لیگ ( ن ) کے چیئرمین اور سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق نے واضح کیا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی آئینی بغاوت کے معاملے پر کسی سے ڈیل کرنا ہوتی تو وفاقی حکومت سابق آمر کیخلاف غداری کا مقدمہ قائم نہ کرتی ہم نے مٹی پاﺅ کی پالیسی اختیار نہیں کی بلکہ مٹی پرویز مشرف کے منہ میں ڈال دی ہے۔ سابق فوجی آمر اپنے دور میں مسئلہ کشمیرکو حل کرنے نہیں بلکہ اسے خراب کرنے پر تلا ہوا تھا، وہ علاقے سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔ دفتر خارجہ کو بھی خاطر میں نہیں لاتا تھا اور اپنی سوچ کے مطابق آﺅٹ آف دی بکس حل تلاش کر رہا تھا۔ آزاد کشمیر سمیت پاکستان میں سیاسی اکھاڑ بچھاڑ کا حصہ نہ بننے کی پالیسی کو برقرار رکھا جائیگا۔ کشمیر کونسل کے حسابات کی خصوصی جانچ پڑتال شروع کر دی گئی ہے۔ ذمہ داران کے خلاف ضرور کارروائی ہو گی ۔ جبکہ مسلم لیگ ( ن ) آزاد کشمیر کے صدر قانون ساز اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر راجہ فاروق حیدر نے واضح کیا ہے کہ سیاسی مفاہمت کے نام پر اب ہم مزید قربانی کا بکرا نہیں بنیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو اسلام آباد میں ایل اے 22 سدہنوتی بلوچ کے ضمنی الیکشن کیلئے پارٹی کی جانب سے سردار فاروق طاہر کو ٹکٹ جاری کرنے کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب میںکیا۔ سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ آزاد کشمیرکے عام انتخابات میں بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کروڑوں روپے استعمال کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کے سیاسی استعمال کو روکنا ہوگا، اب ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ بھارت میں بھی کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حق میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ دہلی میں حکومت بنانے والی عام آدمی پارٹی نے بھی کشمیریوں کے حق خود ارادی کی حمایت کی ہے اور بھارت کی پالیسی کو غلط قرار دیا ہے جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ راجہ ظفر الحق نے مطالبہ کیا کہ آئندہ پاکستان بھارت جامع مذاکرات میں کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔ پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچانے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔
ظفر الحق