مشرف 16 جنوری کو عدالت پیش نہ ہوئے تو انہیں گھر میں نظربند کرنیکی تجویز دونگا : اکرم شیخ

مشرف 16 جنوری کو عدالت پیش نہ ہوئے تو انہیں گھر میں نظربند کرنیکی تجویز دونگا : اکرم شیخ

اسلام آباد (آن لائن + ثناءنیوز + نوائے وقت رپورٹ) سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں استغاثے کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ اگر مشرف 16 جنوری کو بھی عدالت میں پیش نہ ہوئے اور عدالت نے ان کی حراست کے احکامات جاری کر دیئے تو وہ حکومت کو جنرل مشرف کو گھر میں نظر بند کرنے کی تجویز دیں گے۔ وائس آف امریکہ کے پروگرام میں انہوں نے کہا کہ ”استغاثہ کے سربراہ کے طور پر“ میں حکومت کو مشورہ دوں گا کہ مشرف کا عالیشان بنگلہ ایک سب جیل قرار دے دیا جائے انہیں اپنے عالیشان محل میں حراست میں رکھا جائے۔ محض ایک ٹوکن کے طور پر تاکہ وہ عدالتی تحویل میں رہیں اور یہ مقدمہ آگے چل سکے۔ سابق صدر اب تک ایک دفعہ بھی اس خصوصی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے جو ان پر تین نومبر 2007ءکو ملک کا آئین توڑنے کے الزام میں غدّاری کا مقدمہ چلانے کے لئے قائم کی گئی ہے۔ آخری دفعہ جب وہ عدالت کے راستے میں تھے تو ان کے سینے میں درد اٹھا اور انہیں راولپنڈی میں مسلح افواج کے عارضہ قلب کے ہسپتال میں سخت فوجی حفاظت میں داخل کرا دیا گیا۔ خصوصی عدالت نے ان کی طبی رپورٹیں دیکھ کر انہیں اگلی پیشی پر حاضر ہونے کا حکم دیا۔عدالت نے یہ بھی اعلان کیا کہ مقدمہ فوجداری ضوابط کے تحت چلایا جائے گا، یعنی عدالت کو مشرف کی حراست کے احکامات جاری کرنے کا حق ہو گا۔ نجی ٹی وی کے مطابق اکرم شیخ نے کہا کہ خصوصی عدالت میں پیشی کے سوا پرویز مشرف کے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔ پرویز مشرف کی عدم حاضری پر عدالت انتہائی قدم اٹھا سکتی ہے۔ عدم پیشی پر پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو سکتے ہیں۔ جس سے مشرف کے لئے مسائل گھمبیر ہو سکتے ہیں۔ مشرف کا ساتھ دینے والے سوچتے تھے کہ ان کا اقتدار کبھی غروب نہیں ہو گا۔ ابھی تک سابق صدر کی جانب سے عدالت میں پیشی کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔ میرا کام صرف اور صرف عدل کے تقاضوں کے مطابق چلنا ہے۔ آئین میں لکھ دیا گیا ہے کہ آئین شکنی کرنے والا وطن کا غدار ہو گا۔
اکرم شیخ