پاکستانی معیشت کو سیاسی عدم استحکام، امن عامہ کی مخدوش حالت سے نقصان پہنچا: بی بی سی

اسلام آباد (بی بی سی) بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق سیاسی عدم استحکام پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسکی 67 سالہ زندگی مارشل لا اور کمزور سیاسی حکومتوں سے عبارت ہے۔ کمزور سیاسی حکومتیں اور سیاسی جماعتوں کی آپس کی چپقلش کا بعض اوقات خوفناک نتیجہ بھی نکلا ہے۔ پچھلے دو ماہ میں حزب اختلاف کی بعض جماعتوں کی طرف سے داغے گئے بیانات اور حکومت کی طرف سے ضرورت سے زیادہ ردعمل صورتحال کو نازک موڑ پر لے آیا ہے۔ مئی 2013 کے عام انتخابات کے بعد مستحکم سیاسی صورتحال کا تاثر اب بظاہر متزلزل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام آباد میں کئی ہفتوں سے جاری احتجاجی دھرنوں نے سیاسی کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افواج پاکستان نے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کیخلاف آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کر رکھا ہے۔ سیاسی عدم استحکام اور امن عامہ کی طویل عرصے سے مخدوش حالت نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ حکومت کی جانب سے مارچ کرنیوالوں کو روکنے کیلئے وفاقی دارالحکومت کو کنٹینر کھڑے کر کے سیل کر دیا تھا جس سے کاروباری صورتحال پر اثرات پڑے ہیں۔ اکثر برآمدات کرنے والوں نے شکایت کی ہے کہ سامان کی ترسیل نہ ہونے کی وجہ سے ان کا نہ صرف سامان خراب ہو رہا ہے بلکہ ایکسپورٹس کے آڈرز میں تاخیر آ رہی ہے جس کی وجہ سے معاہدوں کی رو سے نقصان ان کو برداشت کر نا پڑ رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کی صورتحال نے پراپرٹی کے کاروبار میں مندی کا دورانیہ بڑھا دیا۔ پاکستان کے تقریباً تمام سرمایہ کار ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور فی الحال سرمایہ کاری سے اجتناب کر رہے ہیں۔