نیوی ڈاکیارڈ پر اندر سے مدد کے بغیر کارروائی ممکن نہیں تھی: وزیر دفاع

نیوی ڈاکیارڈ پر اندر سے مدد کے بغیر کارروائی ممکن نہیں تھی: وزیر دفاع

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ+نیوز ایجنسیاں) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س میں پاکستان نیوی ڈاکیارڈ پر ہونے والے دہشت گرد حملے سے متعلق ایوان کو اعتماد میں لیا اور بریفنگ دیتے ہوئے بتایا 6ستمبر کو نیوی کی ڈاکیارڈ ڈیفنس کے واقعہ میں ایک افسر شہید ہوئے، سات دہشتگرد گرفتار ہیں، تفتیش جاری ہے، تحقیقات سے آگاہ نہیں کر سکتے، دہشتگردوں سے اسلحہ اور مذہبی کتابیں ملی ہیں، مذہب کے نام پر دہشتگردی کا کاروبار ہمارے لئے باعث شرم ہے۔ نیوی ڈاکیارڈ پر اندرونی مدد کے بغیر یہ کارروائی مشکل اور ناممکن تھی، حملہ آپریشن ضرب عضب کا ردعمل ہوسکتا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ چھ ستمبر کو نیوی کی ڈاکیار ڈیفنس کو توڑا گیا جسے نیوی کے بہادر لوگوں نے ناکام بنا دیا، حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کو مار دیا گیا اور 7 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔ دہشت گرد دیوار میں سوراخ بنا کر اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے میں نیوی کا ایک سابق افسر بھی شامل تھا جسے مئی 2013ء میں ڈسچارج کیا گیا تھا اس حملے کے تانے بانے آپریشن ضرب عضب کے ردعمل سے جوڑے جاسکتے ہیں۔ گرفتار ہونیوالے دہشت گردوں سے تین اے کے 47 رائفل، پانچ تیس بور پستول، پانچ 9 ایم ایم رائفل ، چار خود کش جیکٹس ، چوبیس دستی بم، تین سٹیلائٹ فون، تین میٹرو لائٹ اور مذہبی کتابیں ملی ہیں۔ مذہب کے نام پر دہشت گردی کا کاروبار ہمارے لئے باعث شرم ہے اس میں اندر کی مدد کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ پاکستان نیوی نے بڑی بہادری سے اس حملے کو ناکام بنایا، تنصیبات کو کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا، صرف کچھ اہلکار زخمی ہوئے۔ حملہ آوروں کا تعلق ملک کے طول وعرض سے ہے اور ایک کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے۔ اندرونی مدد کے بغیر یہ کارروائی مشکل اور ناممکن تھی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ 14 اگست کو سمنگلی ایئر بیس کوئٹہ پر حملہ کیا گیا وہاں تعینات سکیورٹی نے نائٹ ویژن عینکوں سے نالہ میں کچھ سرگرمی دیکھی اور وہاں سوزوکی کی غلط پارکنگ تھی جس پر سکیورٹی پر موجود اہلکاروں نے فوری کارروائی کی اور حملے کو ناکام بنا دیا، چار دہشت گردوں کو مار دیا گیا، اس واقعہ میں دس سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے اس حوالے سے بہت سی سرگرفتاریاں ہوئی ہیں ان سے کافی معلومات ملی ہیں یہ آپریشن ضرب عضب کا ردعمل ہوسکتا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کامیابی سے جاری ہے مگر ساری توجہ پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے ڈی چوک پر ہوگئی ہے۔ ہماری سکیورٹی فورسز کے لوگ اپنی جانیں دے کر پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں اور پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے بیٹھے کچھ لوگ انا کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن یہ انا کی جنگ ضرور ہاریں گے۔ میڈیا ان قوتوں کے ساتھ کھڑا ہو جو ملک کی بقاء کی جنگ میں مصروف ہیں۔